.

برطانوی وزیر کے ائمہ کے نام خط پر مسلم گروپ نالاں

مقامی حکومت کے وزیر پر اسلامو فوبیا کو ہوا دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں مختلف مسلم گروپوں نے حکومت پر دائیں بازو کے ایک انتہا پسند گروپ کی زبان استعمال کرتے ہوئے اسلامو فوبیا کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا ہے۔

مسلم گروپ ایک وزیر کی جانب سے ملک بھر کے ائمہ مساجد کے نام بھیجے گئے اپیل نام ایک خط سے نالاں ہیں۔برطانیہ کے مقامی حکومت اور کمیونٹیز کے وزیر ایرک پکلز نے گذشتہ جمعہ کو ایک ہزار سے زیادہ ائمہ کو ایک خط بھیجا ہے۔اس میں ان سے کہا ہے کہ ''وہ مسلمانوں کے سامنے یہ وضاحت کریں کہ دین اسلام کیونکر برطانوی معاشرت سے ہم آہنگ ہے اور اس کی شناخت کا حصہ بن سکتا ہے''۔

برطانوی وزیر نے ائمہ پر زوردیا ہے کہ ''انتہا پسندی کے خلاف اقدامات اور منافرت پھیلانے والے کسی بھی شخص کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ان کا فرض ہے''۔مسلم گروپوں نے اس خط کی زبان پر اعتراضات کیے ہیں۔ برطانیہ کی مسلم کونسل (ایم سی بی) کے ایک عہدے دار طلحہ احمد کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں اور ائمہ ہی کو ہدف بنایا گیا ہے۔

ایم سی بی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ہارون خان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم حکومت سے اس بارے میں شکایت کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ''مسٹر پِکلز نے بڑی سنجیدگی سے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان اور اسلام برطانوی معاشرے سے الگ تھلگ ہیں جبکہ دائیں بازوں کے انتہا پسند گروپوں کے ارکان بھی تو یہی کچھ کَہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کا برطانوی معاشرت اور تہذیب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے''۔

رمضان فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو محمد شفیق نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ کے اس خط کی سرکاری سرپرستی کی گئی ہے مگر یہ حقائق کے اعتبار سے نادرست ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ''دہشت گردی'' اور سکیورٹی کے دو چشموں سے دیکھنے کی کوشش کررہی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں اٹھائیس لاکھ مسلمان آباد ہیں۔انھوں نے پیرس میں گذشتہ ہفتے،عشرے کے دوران پیش آئے فائرنگ کے واقعات اور توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے کی مذمت کی ہے۔برطانوی حکومت میں شامل ایک سینیر مسلم ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ اب تمام مسلمانوں پر انتہا پسند کا سراغ لگانے کا خصوصی بوجھ ہے۔

مسٹر پکلز نے خط میں ائمہ سے کہا ہے کہ اگر حکومت اپنے طور پر کچھ حاصل نہیں کرسکتی ہے تو وہ اس کے حصول میں ان کی مدد کریں۔انھوں نے لکھا:''آپ کے پاس یہ وضاحت کرنے کے لیے یہ ایک قیمتی موقع اور ایک اہم ذمے داری ہے کہ اسلام پر اعتقاد کیسے برطانوی شناخت کا حصہ بن سکتا ہے''۔

''ہمیں اپنے نوجوانوں پر یہ واضح کردینا چاہیے کہ انتہا پسندوں کے پاس انھیں پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔انھیں بتادیں کہ نفرت کے ان پجاریوں کے لیے ہماری مساجد میں یا کہیں بھی اور عبادت کے لیے کوئی جگہیں نہیں ہیں''۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس خط کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے پیغام سے متفق ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''جو کوئی بھی یہ خط پڑھتا ہے اور اس کو اس سے مسئلہ ہوتا ہے کہ تو اس کو درحقیقت اس سے ضرور کوئی مسئلہ درپیش ہے۔میرے خیال میں یہ بہت ہی معقول اور اعتدال پسندانہ خط ہے اور ایرک شاید ممکنہ طور پر ایسا ہی خط لکھ سکتے تھے''۔