.

بیلجیم: جہادی رہنما کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری

یونانی حکام سے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے بھی حاصل کر لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیم میں جہادی نیٹ ورک ختم کرنے اور بیلجیم میں جہادیوں کے ممکنہ ماسٹرمائنڈز کی گرفتاری کے لیے مہم جاری ہے۔ یہ بات وزیر انصاف نے یونان میں ہونے والی حالیہ گرفتاریوں کے بعد بتائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ رات گرفتاریوں کے لیے مارے گئے چھاپوں کے دوران مطلوب افراد کی گرفتاری ممکن نہ ہو سکی تھی۔ ان کا کہنا تھا '' ہم ابھی بھی ان کا تعاقب کر رہے ہیں اور امید ہے ہم کامیاب رہیں گے۔''

بیلجیم کے ذرائع ابلاغ کے مطابق جہادی نیٹ ورک کے ستائیس سالہ سربراہ عبدالحمید عباود کے بارے پولیس کو معلوم ہو چکا ہے کہ یہ ایک مراکشی نژاد شہری ہے۔

پولیس کے اس سلسلے میں چھاپوں کے دوران دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس نے یہ کارروائی کر کے ایک پولیس سٹیشن کو تباہ کرنے کی سازش کو بھی ناکام بنایا ہے۔ اسی اثناء میں معلوم ہوا ہے کہ جہادی سربراہ داعش کے ساتھ شام میں بھی کام کر چکا ہے۔

بیلجیم کی سکیورٹی فورسز اس جہادی سربراہ کو داعش کی بعض ویڈیوز میں دیکھ چکی تھیں۔ واضح رہے بیلجیم کے تین سو پینتیس جنگجو داعش کا حصہ بننے کے لیے شام جا چکے ہیں۔ ان میں سے پچاس ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک سو چوراسی ابھی تک وہیں لڑ رہے ہیں، جبکہ ایک سو ایک واپس آ چکے ہیں۔

بیلجیم کے ٹی وی چینل وی ٹی ایم کے مطابق اس مبینہ جہادی رہنما نے یونان سے ایک مسلح عسکریت پسند کو فون کیا تھا۔ مذکورہ عسکریت پسند کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اس سلسلے میں بیلجیم سکیورٹی حکام یونان حکام سے ایسے مشتبہ فنگر پرنٹس اور ڈی این اے بھی حاصل کر چکے ہیں جن کے بارے میں یونانی حکام کا خیال ہے کہ یہ اسی جہادی رہنما عبدالحمید عباود کے ہیں۔