.

نیجر: چارلی ہیبڈو کے خلاف پُرتشدد احتجاج ،45 چرچ نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک نیجر میں فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو میں گذشتہ ہفتے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے خلاف لوگ نے پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور اختتام ہفتہ پر عیسائیوں کے پینتالیس گرجا گھروں کو نذرآتش کردیا ہے۔

نیجر کی نیشنل پولیس کے ترجمان عدلی طورو نے سوموار کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ دارالحکومت نیامے میں ان احتجاجی مظاہروں کے دوران پانچ افراد ہلاک اور ایک سو اٹھائیس زخمی ہوگئے تھے۔مشتعل مظاہرین نے عیسائیوں کے ایک اسکول اور ایک یتیم خانے کو بھی نذرآتش کردیا تھا۔

نیجر کے جنوبی شہر زندر میں بھی عوام نے چارلی ہیبڈو کے خلاف تشدد آمیز مظاہرہ کیا اور اس شہر میں بھی پانچ افراد مارے گئے تھے اور پینتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے فرانسیسی پرچم کو نذرآتش کردیا تھا اور گھیراؤ جلاؤ کے الزام میں ایک سو نواسی افراد کو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔مشتعل مظاہرین نے متعدد عمارتوں کو نذر آتش کیا ہے۔ان میں پانچ ہوٹل اور چھتیس بارز شامل ہیں۔

قریباً تین سو مظاہرین نے اتوار کو نیامے میں پابندی کے باوجود احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔انھوں نے پولیس کی جانب پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔نیجری دارالحکومت کے گورنر حمیدو جربہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نوّے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،ان میں حزب اختلاف کے بعض قائدین بھی شامل ہیں۔

نیجر کے ایک سرکردہ مسلم رہ نما یاؤ سونا نے ہفتے کے روز سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے بیان میں لوگوں پر زوردیا تھا کہ وہ عیسائیوں پر حملوں کا سلسلہ بند کردیں۔انھوں نے مرد وخواتین ،لڑکے اور لڑکیوں پر زوردیا تھا کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور پُرامن رہیں۔

واضح رہے کہ فرانس کے طنزیہ میگزین چارلی ہیبڈو نے اپنے دفتر پر 7 جنوری کو حملے کے ایک ہفتے کے بعد گذشتہ بدھ کو ایک مرتبہ پھر گستاخانہ جسارت کرتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی کارٹون شائع کیا تھا جس پر مسلم ممالک اور اسلامی اداروں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا جبکہ امریکا ،آسٹریلیا اور ان کے حامی مغربی ممالک نے آزادیِ اظہار کے نام پر اس کی حمایت کی تھی۔بہت مسلم ممالک میں اس ناپاک جسارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔بعض مقامات پر ان احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔