.

چیچنیا:گستاخانہ خاکوں کے خلاف بڑی احتجاجی ریلی

مقررین کی چارلی ہیبڈو اور مغربی حکومتوں کے خلاف سخت تقریریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے شمال مشرق میں واقع مسلم اکثریتی جمہوریہ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں ہزاروں افراد نے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی ہے۔

گروزنی میں سوموار کو اس ریلی کا اہتمام چیچن حکومت نے کیا تھا۔اس سے خطاب کرتے ہوئے چیچن لیڈر رمضان قادریوف نے کہا کہ ''یہ ان لوگوں کے خلاف احتجاج ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کی اشاعت کے حامی ہیں اور یہ ان لوگوں کے خلاف بھی احتجاج ہے جو مسلمانوں کے دین کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں''۔

مظاہرین اللہ اکبر کے نعرے بلند کررہے تھے اور مقررین نے مغربی حکومتوں پر توہین آمیز خاکے شائع کرنے کی اجازت دینے پر کڑی تنقید کی۔صدر رمضان قادریوف نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ریلی میں ہزاروں افراد شرکت کریں گے۔روس کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی فوٹیج میں ہزاروں افراد کو گروزنی کے مرکزی چوک میں جمع دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس کے طنزیہ میگزین چارلی ہیبڈو نے اپنے دفتر پر حملے کے ایک ہفتے کے بعد گذشتہ بدھ کو ایک مرتبہ پھر گستاخانہ جسارت کرتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی کارٹون شائع کیا تھا جس پر مسلم ممالک اور اسلامی اداروں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا جبکہ امریکا ،آسٹریلیا وغیرہ نے آزادیِ اظہار کے نام پر اس کی حمایت کی تھی۔

چارلی ہیبڈو کے دفتر پر بدھ سات جنوری کو دو بھائیوں کے حملے میں آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں پانچ کارٹونسٹ شامل تھے۔اس کے باوجود چارلی ہیبڈو کے نئے شمارے کے صفحہ اول پر ایک ایسا کارٹون شائع کیا گیا ہے جس کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔اس نے ''میں چارلی ہوں'' کی تحریر والا کاغذ پکڑا ہوا ہے۔اس کارٹون کو بنانے والے کا کہنا تھا کہ یہ (نعوذ باللہ) ہمارے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔

روس کے میڈیا کی نگرانی کے ذمے دار ادارے محتسب برائے میڈیا اینڈ کمیونیکشنزروسکومندزر نے جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی کسی روسی اخبار یا جریدے میں دوبارہ اشاعت ملکی قانون اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی ہوگی۔اگر کسی اخبار نے ایسا کیا تو وہ ملک میں نسلی اور مذہبی منافرت پھیلانے کا ذمے دار ٹھہرایا جائے گا اور اس کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ روس نے پیرس میں چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر دو اسلامی بھائیوں کے حملے کی مذمت کی تھی اور وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے پیرس میں ملین مارچ میں شرکت کی تھی لیکن کریملن نواز تجزیہ کاروں ،مبصرین اور مسلمانوں نے اس ہفت روزہ اخبار کے کارٹونسٹوں کو حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی اشتعال انگیز حرکت کی وجہ سے دونوں بھائیوں کو حملے کا جواز ملا تھا۔

چارلی ہیبڈو میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف پاکستان سے نائیجیریا تک احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔بعض مقامات پر ان احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ ہفتے کے روز چیچنیا کے پڑوس میں واقع جمہوریہ انگشتیا میں پندرہ ہزار افراد نے فرانسیسی جریدے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور اس کی ناپاک جسارت کی مذمت کی تھی۔