.

ترکی: وائر ٹیپ اسکینڈل، 20 مشتبہ افراد گرفتار

زیرحراست افراد میں سابق سرکاری عہدے دار شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوان سمیت سینیر عہدے داروں کے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو ٹیپ کرنے کے الزام میں مزید بیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں ٹیلی مواصلات اور سائنس کے سرکاری اداروں کے بعض سابق سینیر حکام بھی شامل ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق پراسیکیوٹرز نے انقرہ، استنبول اور دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔منگل کے روز پولیس نے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ٹیلی کمیونیکشنز ایجنسی (ٹی آئی بی) اور سائنس اور ٹیکنالوجی ایجنسی (ٹیوبی ٹیک) کے سابق ملازمین کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

اناطولیہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر وائر ٹیپ کیس کے الزام میں مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے یہ چوتھی چھاپہ مار کارروائی ہے۔ٹیلی فون پر گفتگو کی ریکارڈنگ کا یہ اسکینڈل گذشتہ سال کے اوائل سے سامنے آیا تھا اور اسی کے بطن سے صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے قریبی مصاحبین کے خلاف کرپشن اسکینڈل نے جنم لیا تھا۔

ٹیوبی ٹیک کے سابق سربراہ حسن پلاز اور کمیونیکشنز ایجنسی کے سابق نائب سربراہ نشاط سین کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔سابقہ چھاپہ مار کارروائیوں کی طرح منگل کو کی گئی کارروائی کی بھی فواد عونی نامی ایک صارف نے ٹویٹر پر قبل ازوقت اطلاع دے دی تھی حالانکہ اس کی منصوبہ بندی میں بڑی رازداری برتی گئی تھی۔

اس صارف فواد عونی کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔صدر ایردوآن نے اس کو ایک غدار قرار دیا ہے جبکہ بعض نے یہ قیاس آرائی کی ہے کہ یہ شخص ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار ہے۔

ترک صدر نے امریکا میں مقیم مسلم دانشور فتح اللہ گولن پر کرپشن اسکینڈل کو گھڑنے کا الزام عاید کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ انھوں نے پولیس اور عدلیہ میں موجود اپنے وفادار عہدے داروں کے ذریعے ایک ''متوازی ریاست'' تشکیل دے رکھی ہے۔

یہ خفیہ ٹیپس فروری 2014ء میں منظرعام پر آئی تھیں۔ ان مِیں سے ایک میں (تب وزیراعظم) طیب ایردوآن کو اپنے بیٹے بلال کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ وہ تین کروڑ ستر لاکھ ڈالرز کی رقم ٹھکانے لگا دیں۔ ترک صدر نے ان ریکارڈنگز کو شیطانی چال قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

قبل ازیں ترک صدر کی اپنے سابق محافظ اعلیٰ اور وزیر اعظم کے محکمہ سکیورٹی کے سربراہ کے ساتھ مبینہ گفتگو ٹیپ کرنے کے الزام میں تیرہ مشتبہ افراد کے خلاف 2 جنوری کو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔