.

حوثی جنگجو یمن کے صدارتی محل میں داخل

باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی جنگجو سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختصر لڑائی کے بعد صدارتی محل میں داخل ہوگئے ہیں۔العربیہ نیوز چینل کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق حوثی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں صدارتی محل کی حفاظت پر مامور دو اہلکار مارے گئے ہیں۔

محافظوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے حوثی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی کے بعد صدارتی محل کا کنٹرول ان کے حوالے کردیا ہے۔صدارتی محل میں یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے دفاتر قائم ہیں۔

یمنی وزیراطلاعات نادیہ سکاف نے اطلاع دی ہے کہ صدر کے گھر پر بھاری گولہ باری کی جارہی ہے۔انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر مختصر تحریر میں لکھا ہے کہ ''یمنی صدر پر ان جنگجوؤں نے حملہ کیا ہے جو ان کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں''۔درایں اثناء یمنی حکومت کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ صدر منصور ہادی بالکل خیریت سے ہیں۔

سلامتی کونسل کا اجلاس

ادھر نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر غور کے لیے آج منگل کو بند کمرے کا ایک مشاورتی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔صنعا میں گذشتہ روز حوثی باغیوں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد برطانیہ نے صورت حال پر غور کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر کونسل کو تازہ صورت حال سے آگاہ کریں گے۔صنعا میں گذشتہ تین چار روز کے دوران حوثی باغیوں کی پیش قدمی اور سرکاری عمارتوں پر قبضے کی کارروائیوں کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت ختم ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ حوثیوں نے ستمبر سے صنعا میں بیشتر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کررکھا ہے اور اس کے بعد سے صدر ہادی کی حکومت کی عمل داری بالکل بھی نہیں رہی ہے۔صدارتی محل صنعا سے جنوب میں واقع ہے اور حوثیوں کا ابھی تک اس پر قبضہ نہیں ہوا تھا۔

یمنی دارالحکومت میں حوثیوں کے ہاتھوں ہفتے کے روز صدر کے چیف آف اسٹاف عواد بن مبارک کے اغوا کے بعد سے شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔باغیوں نے یمن کے جنوبی صوبے شیبوۃ کے گورنر کی جانب سے دھمکی کے باوجود انھیں رہا نہیں کیا ہے۔

حوثی شیعہ باغیوں نے سوموار کو سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔سرکاری فوج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان صدارتی محل کے نزدیک لڑائی میں نو افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ حوثی باغیوں نے یمنی وزیراعظم خالد بھا کے قافلے پر بھی شدید فائرنگ کی تھی۔تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔