.

پیرس حملے،معاونت پر چار افراد کو مقدمے کا سامنا

پولیس نے گرفتار بارہ مشتبہ افراد میں سے آٹھ کو رہا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں چار مشتبہ افراد کو آج منگل کو ایک عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔ان پر پیرس میں حملے کرنے والے تین مشتبہ اسلامی جنگجوؤں میں سے ایک کی معاونت کا الزام ہے۔

ان چاروں مشتبہ افراد کی عمریں 22 ،25 ،26 اور 28 سال ہیں اور ان سمیت بارہ مشتبہ افراد کو گذشتہ جمعہ کو فرانس کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

پیرس کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے ان مشتبہ افراد میں شامل تین عورتوں کو ہفتے کے روز رہا کردیا گیا تھا اور پانچ افراد کو سوموار اور منگل کی درمیانی شب رہا کیا جاچکا ہے۔

باقی چار افراد کو آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے اور اب عدالت کے جج ان پر پیرس میں حملے کرنے والوں میں سے ایک آمدی کولیبالی کو لاجسٹیکل اسپورٹ مہیا کرنے پر فرد الزام عاید کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

کولیبالی نے 9 جنوری جمعے کو پیرس کے مشرق میں واقع یہود کے ملکیتی ایک کوشر سپر مارکیٹ میں داخل ہو کر وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور پھر ان میں سے چار کو ہلاک کردیا تھا۔وہ خود اسی روز پولیس کی کارروائی میں مارا گیا تھا۔اس پر یہ بھی شُبہ ہے کہ اس نے 8 جنوری کو پیرس میں ایک خاتون پولیس افسر کو بھی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

کولیبالی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وہ پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر 7 جنوری کو حملہ کرنے والے دونوں بھائیوں سعید کواشی اور شریف کواشی سے رابطے میں تھا۔ان دونوں بھائیوں نے اندھا دھند فاِرنگ کر کے آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔وہ بھی 9 جنوری کو پولیس کی ایک الگ کارروائی میں مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ فرانس کے طنزیہ میگزین چارلی ہیبڈو نے اپنے دفتر پر حملے کے ایک ہفتے کے بعد گذشتہ بدھ کو ایک مرتبہ پھر گستاخانہ جسارت کرتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی کارٹون شائع کیا تھا جس پر مسلم ممالک اور اسلامی اداروں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا جبکہ امریکا ،آسٹریلیا اور ان کے حامی مغربی ممالک نے آزادیِ اظہار کے نام پر اس کی حمایت کی تھی۔بہت مسلم ممالک میں اس ناپاک جسارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔