.

''داعش سے یرغمال جاپانیوں کو درپیش خطرہ ناقابل قبول''

دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہیں:شنزو ایبے کا دھمکی پر ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ کی دو جاپانی یرغمالیوں کو قتل کرنے کی دھمکی پر جھکنے اور ان کے تاوان ادا کرنے کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس جنگجو گروپ کا یرغمالیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دینا ناقابل قبول فعل ہے اور وہ دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

شنزو ایبے مشرق وسطیٰ کے دورے کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں منگل کے روز نیوز کانفرنس میں گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ داعش کی جنگ سے متاثرہ ممالک کے لیے بیس کروڑ ڈالرز کی امداد کا وعدہ پورا کریں گے۔انھوں نے ہفتے کے روز یہ امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف مل جل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔

داعش نے دو جاپانی یرغمالیوں کینجی گوٹو جوگو اور ہارونا یوکاوا کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔کسی صحرائی علاقے میں فلمائی گئی اس ویڈیو میں ان دونوں جاپانی شہریوں نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ داعش کا ایک نقاب پوش جنگجو چاقو لیے کھڑا بول رہا ہے۔

اس نے جاپانی عوام کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ''ان کے پاس اپنی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت ہے۔وہ جاپانی حکومت کو امریکا کی قیادت میں اتحاد کی داعش مخالف مہم کی حمایت سے بازرکھنے کے لیے دباؤ ڈالیں''۔ویڈیو میں داعش کے نقاب پوش جنگجو نے جاپانی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں 20 کروڑ ڈالرز تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے یہ دونوں مطالبے نہ مانے گئے تو یرغمالیوں کو قتل کردیا جائے گا۔

قبل ازیں جاپانی حکومت نے ان دونوں یرغمالیوں کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گی۔جاپانی حکومت کے ترجمان اعلیٰ یوشیدے سوجا نے ٹوکیو میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ہمارا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون جاری رکھے گا اور اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''ویڈیو میں دو افراد کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے اور وہ دونوں جاپانی شہری نظر آتے ہیں۔ہم اس کے قابل اعتبار ہونے کی تصدیق کررہے ہیں۔لوگوں کو یرغمال بنانا ایک ناقابل معافی جرم ہے اور مجھے اس پر سخت غصہ ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ ''جاپانی حکومت ان دونوں شہریوں کی جلد سے جلد رہائی کے لیے پُرعزم ہے''۔جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کی اطلاع کے مطابق کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق حکومت کے ممکنہ ردعمل پر غور کیا جائے گا۔

ایبے کی داعش مخالف امداد

جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے نے ہفتے کے روز داعش کی برپا کردی خونیں جنگ سے متاثرہ ممالک کے لیے بیس کروڑ ڈالرز غیر فوجی امداد کی شکل میں دینے کا اعلان کیا تھا۔یہ امدادی رقم شامی مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کی انسانی صلاحیتوں میں اضافے اور وہاں ڈھانچے وغیرہ کی تعمیر پر صرف کی جائے گی۔

انھوں نے قاہرہ میں گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ''اگر عرب دنیا میں دہشت گردی پھیل گئی تو اس سے دنیا کو ناقابل بیان نقصان برداشت کرنا پڑے گا''۔

انھوں نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے آغاز پر مصری دارالحکومت میں کہا تھا کہ ''کیا ہمیں دہشت گردی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو پھیلنے کی اجازت دے دینی چاہیے،اس سے عالمی برادری کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑے گا''۔