.

عراق جنگ: انکوائری رپورٹ کی اشاعت میں پانچ سال کی تاخیر

برطانوی حکومت کا انکوائری رپورٹ کی جلد اشاعت پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں چھ سالہ جنگ میں برطانوی شمولیت کے بارے میں انکوائری رپورٹ کو ایک مرتبہ پھر تاخیر کا سامنا ہے۔ اس انکوائری رپورٹ کے حوالے سے برطانوی عوام ایک طویل عرصے سے منتظر ہیں۔

چلکاٹ انکوئری کے نام سے کمیشن سنہ دوہزار نو میں قائم کیا گیا تھا تاکہ عراق جنگ میں برطانوی شمولیت کے جواز اور اس دوران برطانوی فوجیوں کے کردار کو جانچا جا سکے ابتدائی طور پر اس انکوائری کی تفصیلات سنہ دوہزار دس میں سامنے لانے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ لیکن اس انکوائری رپورٹ کی اشاعت سابق وزیر اعظم توںی بلئیر اور امریکا کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے عدم اتفاق کی وجہ سے موخر ہو گئی۔

اس انکوائری رپورٹ پر ساڑھے تیرہ ملین امریکی ڈالرز سے زائد کی رقم خرچ ہو چکی ہے، تاہم ابھی تک اس کی اشاعت ممکن نہیں ہوئی ہے۔ اب اشاعت ماہ مئی میں ہونے والے نئے انتخابات تک تاخیر کا شکار رہنے کا امکان ہے۔

اس کی اشاعت میں تاخیر کے بارے میں خبریں سامنے آنے پر برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نک کلیگ نے انکوائری کمیشن کے نام اپنے خط میں لکھا ہے '' عوام پہلے پہی اس رپورٹ کا بہت زیادہ انتظار کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا اب اس کی اشاعت کے حوالے سے ایک واضح اور متعین تارخیخ کا اعلان ہونا چاہیے۔

امکان ہے کہ اس انکائری رپورٹ کے سامنے آنے سے جہاں برطانیہ کے عراق جنگ میں شامل ہونے کے جواز یا عدم جواز کی وضاحت ہو گی وہیں آندہ کے لیے برطانوی خارجہ پالیسی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ امکانی طور برطانیہ کی سیاست اور داخلی پالیسیوں پر بھی اثرات ہوں گے۔

اس سے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی اس رپورٹ کی اشاعت میں مسلسل تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا '' میں اس بارے میں سخت مایوس ہوا ہوں۔ ''

واضح رہے سنہ دوہزار تین میں عراق جنگ کے آغاز سے اختتام تک چھ سال کے دوران اس جنگ میں برطانیہ امریکا کا سب سے اہم اتحادی تھا۔ عراق اس چھ سالہ جنگ کے بعد مسلسل بد امنی میں گھرا ہوا ہے۔ اب عراق کے ایک حصے پر داعش قابض ہو گئی ہے۔