.

فرانس:جنگجوؤں سے روابط پر 3000 افراد کی نگرانی

دہشت گردی مخالف جنگ کے لیے2680 نئی ملازمتوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیراعظم مینول والز نے پیرس حملوں کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حکام کو دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے روابط رکھنے والے قریباً تین ہزار افراد کی نگرانی کرنا ہوگی۔

انھوں نے پیرس میں بدھ کو ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ عراق اور شام میں نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد میں گذشتہ ایک سال کے دوران 130 فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

فرانسیسی وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اقدامات کے تحت 2680 نئی ملازمتوں اور ساڑھے 42 کروڑ یورو ( 49 کروڑ ڈالرز) رقم خرچ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اس وقت اولین ترجیح اور اولین ضرورت انٹیلی جنس سروسز کے انسانی اور ٹیکنیکل وسائل میں مزید اضافہ کرنا ہے۔نئی اعلان کردہ ملازمتوں میں چودہ سو محکمہ پولیس کی ہیں اور ان میں زیادہ تر شعبہ سراغرسانی کی اسامیاں ہوں گی''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''ساٹھ مزید مسلم علمائے دین کو بھی بھرتی کیا جائے گا جبکہ ایک سو بیاسی پہلے ہی جیلوں میں کام کررہے ہیں''۔ان علمائے دین کا کام جیلوں میں قید مسلمانوں کو کٹڑ انتہا پسند بننے سے روکنا ہوگا کیونکہ پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے میگزین چارلی ہیبڈو اور یہود کے ملکیتی سپر اسٹور پر حملے کرنے والے تین اسلامی جنگجوؤں کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ جیل میں قید کے دوران ہی انتہا پسند بنے تھے۔ مسٹر والز نے پیرس حملوں کے بعد بی ایف ایم ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس دہشت گردی ،جہادازم اور ریڈیکل اسلام کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔