.

امریکا دنیا میں تسلط چاہتا ہے:روس

واشنگٹن کی جارحانہ خارجہ پالیسی ایک روز ماضی کا قصہ بن جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے امریکی صدر براک اوباما کے اسٹیٹ آف دی یونین سالانہ خطاب کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے:''امریکا عالمی امور میں اپنا تسلط چاہتا ہے''۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے بدھ کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''امریکیوں نے محاذ آرائی کا راستہ چُن لیا ہے۔اوباما کے گذشتہ روز کے خطاب سے ظاہر ہوتاہے کہ ان کے دلوں میں صرف ایک بات ہے اور وہ یہ کہ ہم نمبر ایک ہیں اور باقی دنیا کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے''۔

روس کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی اس نیوز کانفرنس میں سرگئی لاروف نے کہا کہ ''(امریکیوں کا) یہ نقطہ نظر گھسا پٹا ہے اور اس کا جدید زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا دنیا میں اپنی بالادستی چاہتا ہے اور واشنگٹن کو دوسروں کی برابری قبول نہیں ہے''۔

صدر اوباما نے اپنی اس اہم تقریر میں کہا تھا کہ ''بڑی اقوام چھوٹی اقوام پر اپنا دھونس نہیں جما سکتی ہیں''۔ان کا اشارہ روس کے یوکرین کی ریاست کریمیا پر قبضے، اس کو ضم کرنے اور مشرقی یوکرین میں روس نواز علاحدگی پسندوں کی حمایت کی جانب تھا۔

انھوں نے یوکرین کے معاملے میں امریکا کی کریملن سے متعلق پالیسیوں کو سراہا اور کہا کہ اس سے ماسکو تنہائی کا شکار ہوچکا ہے اور اس کی معیشت زبوں حال ہے۔

سرگئی لاروف نے ان کے ان کلمات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''روس کو تنہائی کا شکار کرنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی،امریکا کی جارحانہ خارجہ پالیسی ایک روز ماضی کا قصہ بن جائے گی اور یہ وقت بھی گزر جائے گا''۔

تاہم روسی وزیرخارجہ نے شام اور عراق میں برسرپیکار جنگجو گروپ داعش کے بارے میں صدر اوباما کے موقف کی تعریف کی اور کہا:''اب واشنگٹن کو ادراک ہورہا ہے کہ داعش سے شام کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ اس وقت سب سے زیادہ اہمیت اختیار کرچکی ہے''۔

انھوں نے کہا ''یہ اچھی بات ہے کہ داعش کے خطرے کو سمجھا جارہا ہے لیکن سب سے اہم امر یہ ہے کہ اب اس تفہیم کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے''۔صدر اوباما نے اپنی تقریر میں کانگریس کے اراکین سے کہا ہے کہ وہ انھیں داعش کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے لیے اختیارات کی منظوری دیں۔

واضح رہے کہ روس ایک عرصے سے یہ کہتا چلا آرہا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت نہیں بلکہ کٹڑ جنگجو گروپوں سے علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں جبکہ امریکا کا یہ موقف رہا ہے کہ بشارالاسد کو اقتدار سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اسی ہفتے اپنے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ واشنگٹن اب بظاہر شام سے متعلق اپنے موقف میں بتدریج تبدیلی لارہا ہے اور وہ صدر بشارالاسد کے بجائے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے۔لاروف کا کہنا تھا کہ یہ مضمون بڑی اہمیت کا حامل تھا اور اس کا روسی زبان میں ترجمہ کیا جائے گا۔