.

جی سی سی:حوثیوں کی صدارتی محل پر چڑھائی کی مذمت

صنعا میں صدر ہادی اور وزیراعظم کی رہائش گاہوں کا محاصرہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں کی صدارتی محل اور صدر کی رہائش گاہ پر چڑھائی کو بغاوت اور دہشت گردی قرار دیا ہے۔ تنظیم نے باغیوں پر زوردیا ہے کہ وہ صدارتی محل کو خالی کردیں اور صدر کے مشیر کو بھی رہا کریں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق حوثی شیعہ باغیوں نے صنعا میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی رہائش گاہ کا محاصرہ کررکھا ہے۔انھوں نے گذشتہ دوروز سے صدارتی محل کا بھی گھیراؤ کررکھا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر منصور ہادی کی حکومت کا تختہ الٹا نہیں ہے۔

چھے خلیجی عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے سعودی دارالحکومت الریاض میں بدھ کو اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں حوثی شیعہ باغیوں کی 20 جنوری کو صدارتی محل پر چڑھائی کو بغاوت قرار دیا ہے اور ان پر زوردیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں پر قبضے سے دستبردار ہوجائیں۔

حوثی باغیوں نے یمنی صدر کو برطرف تو نہیں کیا ہے لیکن انھیں ان کی نجی رہائش گاہ تک محدود ومحصور کردیا ہے اور وہ اس کے باہر پہرا دے رہے ہیں۔یمنی صدر کے ایک قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ منصور ہادی نے بدھ کو ایک حوثی عہدے دار سے ملاقات کی ہے اور وہ اپنے گھر پر نظر بند نہیں ہیں۔

العربیہ نیوز چینل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم خالد بحاح اور صدارتی گارڈ کے سربراہ محل سے جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔صدارتی گارڈز کے سربراہ جنوبی شہر عدن کی جانب گئے ہیں۔

حوثی شیعہ باغیوں کے سیاسی شعبے کے ایک رکن محمد بخیتی نے کہا ہے کہ ''صدر منصور ہادی ابھی تک گھر پر موجود ہیں۔انھیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں اور وہ وہاں سے کہیں اور جاسکتے ہیں''۔

قبل ازیں گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حوثی شیعہ باغیوں کے صدارتی محل پر حملے کی مذمت کی تھی اور صدرعبد ربہ منصور ہادی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''منصور ہادی قانونی حاکمیت کے حامل ہیں۔یمن میں تمام جماعتوں اور سیاسی ایکٹروں کو صدر ہادی ،وزیراعظم خالد بحاح اور کابینہ کا ملک میں استحکام اور سلامتی کے لیے ساتھ دینا چاہیے''۔

عدن میں ہوائی اڈے کی بندش

ادھر یمن کے دوسرے بڑے شہر عدن میں حکام نے صدر منصورہادی اور دوسری ریاستی شخصیات پر حوثی شیعہ باغیوں کے حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر بین الاقوامی ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو بند کردیا ہے۔

عدن کے سکیورٹی ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہر کے ہوائی اڈے ،بندر گاہ اور داخلی راستوں کو دارالحکومت صنعا میں ہونے والی خطرناک پیش رفت کے پیش نظر بند کیا جارہا ہے۔ یہ اقدام قومی سالمیت اور آئین کی حاکمیت کی علامت صدر عبد ربہ منصور ہادی پر حملوں کے ردعمل میں بھی کیا جارہا ہے۔

عدن کی سکیورٹی کمیٹی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''ہم حوثیوں کو آئینی حاکمیت کی علامتوں ہادی ،خالد بحاح اورعواد بن مبارک کے تحفظ اور سلامتی کا ذمے دار قراردیتے ہیں۔کمیٹی نے عالمی برادری اور علاقائی حکومتوں پر زوردیا ہے کہ وہ یمن میں آئین کی حاکمیت کے دفاع کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔