.

لاہور:داعش کا کمانڈر دو ساتھیوں سمیت گرفتار

پاکستانیوں کو داعش کے لیے بھرتی کرکے شام بھیجنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے دوسرے بڑے شہر لاہور میں عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو گروپ داعش کے علاقائی کمانڈر اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ان تینوں مشتبہ افراد پر جنگجو بھرتی کرکے خانہ جنگی کا شکار شام میں بھیجنے کا الزام ہے۔ان ذرائع نے داعش کے گرفتار کمانڈر کا نام یوسف السلفی بتایا ہے اور اس نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ وہ پاکستان میں داعش کا نمائندہ تھا۔

ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''یوسف السلفی پاکستانی نژاد شامی ہے۔وہ پانچ ماہ قبل ترکی کے راستے پاکستان میں آیا تھا۔شام سے ترکی پہنچنے پر اس کو گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن وہ وہاں سے کسی طرح بھاگ نکلنے اور پھر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور یہاں اس نے داعش کے لیے بھرتی دفتر کھول لیا تھا''۔

اس ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ اس کے ایک ساتھی کا نام حافظ طیب ہے،وہ لاہور کی ایک مسجد میں پیش امام ہے۔وہ داعش کے لیے پاکستانیوں کی بھرتی اور انھیں شام بھیجنے کی سرگرمیوں میں ملوّث تھا۔داعش فی بندہ چھے سو ڈالرز تک رقم دے رہی تھی۔

حال ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شامل بعض کمانڈروں نے بھی داعش کے خودساختہ خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔ان کا یہ اقدام طالبان جنگجوؤں کی قیادت مِیں اختلافات کا شاخسانہ تھا۔واضح رہے کہ پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام دو علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں طالبان جنگجوؤں کی بڑی تعداد ہلاک ہوچکی ہے یا وہ تتر بتر ہوچکے ہیں اور ان میں سے اب بعض مبینہ طور پر داعش میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کا رُخ کررہے ہیں۔

تاہم پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان باضابطہ کوئی آپریشنل رابطہ استوار نہیں ہوسکا ہے ۔طالبان کی مرکزی قیادت سے ناراض کمانڈروں نے داعش کے تحت خراسان کے نام سے اپنا الگ گروپ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔اس گروپ میں افغانستان ،پاکستان ،بھارت اور جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل ہیں۔

اس گروپ کے لیڈر حافظ سعید خان اورکزئی اسی ماہ انٹر نیٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے اور انھوں نے لوگوں پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے گروہ میں شمولیت اختیار کریں۔یہ صاحب پاکستانی طالبان کے ایک سابق کمانڈر ہیں۔

درایں اثناء صوبہ پنجاب کی حکومت نے ایک آرڈی ننس نافذ کیا ہے جس کے تحت دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو کسی بھی فورم یا میڈیا پر مقدس بنا کر پیش نہیں کیا جاسکے گا۔منگل کو جاری کردہ پنجاب امن عامہ ترمیمی آرڈی ننس 2015ء اسی سے ملتے جلتے 1960ء کے قانون کی ترمیمی شکل ہے اور یہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک میں کی جانی والی قانونی اصلاحات کا حصہ ہے۔

اس آرڈی ننس میں کہا گیا ہے کہ '' کوئی بھی شخص الفاظ یا تحریر کی شکل میں کسی بھی فورم پر دہشت گردی یا دہشت گردوں کی حمایت کرے گا یا کسی دہشت گرد یا دہشت گرد تنظیم کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا یا پاکستان آرمی ،فضائیہ ،بحریہ ،پولیس یا رینجرز کی دہشت گردی یا دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کی مخالفت کرے گا تو وہ اس قانون کے تحت قابل سزا جرم کا مرتکب ہوگا''۔

آرڈی ننس کے تحت ان تینوں جرائم کی سزا چھے ماہ تک قید اور پچیس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگی۔یہ ناقابل ضمانت جرائم ہوں گے اور میجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت میں ملزموں کے خلاف کیس کی فوری سماعت کی جائے گی۔