امریکا: کانگریس کی اوباما سے بالا بالا اسرائیلی وزیراعظم کو دعوت خطاب

کانگریس کو اپنے معاملات میں آزادی ہے: سپیکر جان بونہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی کانگریس نے ملکی پروٹوکول کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوے صدر اوباما سے مشاورت کیے بغیر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دے دی ہے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان نے اسے پروٹوکول کے منافی قرار دیا ہے۔

امریکی کانگریس کی سپیکر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دینے کا اعلان اس وقت کیا جب اسی صبح صدر اوباما نے سٹیٹ آف دی یونین کے سالانہ خطاب میں خبردار کیا کہ وہ کانگریس کی طرف سے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کو ویٹو کر دیں گے۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ نیتن یاہو جن کے اوباما کے ساتھ تعلقات اکثر خوشگوار نہیں رہے ہیں ان دنوں گیارہ فروری کو کانگریس سے اپنے خطاب کے موقع پر اوباما سے ملاقات کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کیونکہ یہ پروٹوکول کا تقاضا ہے کہ جب ایک ملک کا سربراہ دوسرے ملک جاتا ہے تو وہاں کے سربراہ سے رابطہ کرتا ہے۔

تاہم وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ایرنیسٹ نے کہا ہے کہ اس انداز سے کانگریس سے خطاب کی دعوت کا دیا جانا پروٹوکول کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس بارے میں رپورٹرز نے سپیکر کانگریس سے پوچھا کہ آیااسرائیلی وزیر اعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دینا صدر اوباما کی آنکھ میں انگلی مارنے کے برابر نہیں ۔

اس پر جان بونہر نے کہا کانگریس کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہے، اس لیے میں نہیں سمجھتی کہ ہم نے کسی کی آنکھ میں انگلی ماری ہے۔ اراکین کانگریس کی کوشش ہے کہ وہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے اپنے بل کے لیے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کر سکیں۔

اس سلسلے میں سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے ایک متنازعہ قسم کی سماعت کا اہتمام کیا اور اس میں امریکی انتظامیہ کے حکام کو طلب کیا گیا۔ اسی طرح سینیٹ کی بنکنگ کمیٹی اس مجوزہ بل پر اگلے ہفتے ووٹ دینے والی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا امریکا کہ متوقع دورہ اسرائیل میں ماہ مارچ میں ہونے والے انتخابات سے پانچ ہفتے قبل ہو گا۔ اسرائیل میں انتخابات سترہ مارچ کو ہوں گے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا وائٹ ہاوس اس وقت تک اپنا فیصلہ محفوظ رکھے گا جب تک یاہو کے دورہ پر اسرائیلی حکام سے بات چیت کا امکان باقی ہے۔

سپیکر کانگریس نے کہااس موقع پر جبکہ چیلنج درپیش ہیں میں یاہو کو انتہا پسند اسلام اور ایران کی طرف سے امکانی خطرات اور ہمارے طرز زندگی کے موضوعات پر خطاب کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے ایرانی جوہری پروگرام اوباما اور یاہو کے درمیان تناو کی ایک اہم وجہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں