صومالیہ: ترک وفد کے ہوٹل کے باہر کار بم دھماکا

دو پولیس افسر ہلاک، الشباب نے ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک ہوٹل کے داخلی دروازے پر تباہ کن کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو پولیس افسر ہلاک ہوگئے ہیں۔ دھماکے کے وقت اس ہوٹل میں ترکی کا ایک سرکاری وفد صومالی حکام سے ملاقات کر رہا تھا لیکن ان میں سے کسی کو حملے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ترک وفد صدر رجب طیب ایردوآن کے صومالیہ کے دورے سے ایک روز قبل سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وہاں موجود تھا۔ایک عینی شاہد نے ہوٹل کے تباہ شدہ گیٹ کے سامنے دو پولیس اہلکاروں کی لاشیں دیکھی ہیں اور کار کے ڈرائیور خودکش حملہ آور کی مسخ شدہ لاش بھی وہیں پڑی تھی۔

صومالی پولیس کے کپتان فرح نور کا کہنا ہے کہ ترک وفد ہوٹل میں محفوظ ہے۔ادھر انقرہ میں ترک صدر کے دفتر کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ رجب طیب ایردوآن اس دھماکے کے باوجود صومالیہ کے دورے پر جائیں گے۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ اس امر کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ آیا ان کے وفد کو جان بوجھ کر تو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔صومالیہ کے باغی جنگجو گروپ الشباب نے اس تباہ کن خودکش کار بم حملے کی ذمے داری قبول کی ہے لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس نے ترک وفد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

الشباب کے ملٹری آپریشن ترجمان شیخ عبدالعزیز ابو مصعب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم نے ہوٹل پر حملہ کیا تھا اور وہاں ایک اجلاس میں شریک صومالی پولیس کے متعدد افسروں کو ہلاک کردیا ہے''۔

رجب طیب ایردوآن قریباً بیس سال کے بعد خانہ جنگی کا شکار صومالیہ کا دورہ کرنے والے پہلے غیر افریقی صدر ہوں گے۔اس سے پہلے سنہ 2011ء میں انھوں نے ترکی کے وزیراعظم کی حیثیت سے اس ملک کا دورہ کیا تھا۔

ترکی صومالی حکومت کا اہم اتحادی ہے اور اس نے سنہ 2011ء میں صومالیہ میں قحط سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے گراں قدرامداد کی تھی۔اس نے ملک بھر میں امدادی سامان بھیجا تھا اور کے علاوہ اسپتال تعمیر کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں