قریباً 10 سابق فرانسیسی فوجیوں کی داعش میں شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے قریباً دس سابق فوجی عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ دوسرے سیکڑوں فرانسیسی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر خانہ جنگجوؤں کا شکار ان دونوں ممالک میں لڑرہے ہیں۔

اس بات کا انکشاف فرانس کے دفاعی ذرائع نے کیا ہے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں ان سابق فوجیوں کی جہادیوں کے نیٹ ورکس میں شمولیت پر تو کوئی زیادہ تشویش لاحق نہیں ہے۔البتہ ان کے لیے تشویش کی بڑی وجہ فورسز میں راسخ العقیدگی کی مظہریت کو در آنے سے روکنا ہے۔

فرانسیسی وزیردفاع ژاں وائی ویس لی ڈرائین نے اس معاملے پر براہ راست کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے نئے اقدامات کے اعلان کے موقع پر نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''سابق فوجیوں کے جہادازم کی جانب مائل ہونے کے کیسز شاذونادر ہیں''۔

فرانسیسی وزارت دفاع نے نئے اقدامات کے تحت داخلی انٹیلی جنس کے یونٹ کے لیے 65 مزید اہلکاروں کی بھرتی کی منظوری دی ہے۔اس سے پہلے اس کے اہلکاروں کی تعداد ایک ہزار ہے اور وہ جہادیوں کی بھرتی کی نگرانی کریں گے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت قریباً بارہ سو فرانسیسی شہری اور مکین شام اور عراق میں جاری جنگوں میں شریک ہیں۔ برطانوی اخبار دا ٹیلی گراف نے مقامی میڈیا کے حوالے سے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں لکھا ہے کہ ''سب سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ فرانس کی فرسٹ میرین انفینٹری پراشوٹ رجمنٹ کا ایک سابق رکن بھی داعش میں شامل ہوچکا ہے''۔

اس رجمنٹ کو یورپ کے سب سے زیادہ تجربے کار اسپیشل فورسز یونٹس میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔فرانس کے اس سابق کمانڈو کا نام تو نہیں بتایا گیا ہے لیکن اس کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ شمالی افریقہ کے خطے سے تعلق رکھتا ہے۔

اس جنگجو نے فرانسیسی دستے کے ساتھ کمانڈو تربیت حاصل کی تھی۔وہ حربی،شوٹنگ اور زندہ رہنے کی تیکنیکوں کا تربیت یافتہ ہے۔وہ پانچ سال تک کمانڈو رجمنٹ کا حصہ رہا تھا اور اس کے بعد اس نے ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی تھی۔اس کے ساتھ وہ جزیرہ نما عرب میں خدمات انجام دیتا رہا تھا۔وہیں اس نے جہادی نظریے کو اپنایا اور راسخ العقیدہ بننے کے بعد شام چلا گیا تھا۔

فرانس کے ایک اور بھگوڑے فوجی کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ اس وقت شام کے علاقے دیرالزور میں فرانسیسی نژاد اسلامی جنگجوؤں کے امیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ریڈیو فرانس انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ان تمام فرانسیسیوں نے کمانڈو تربیت حاصل کررکھی ہے۔

داعش میں شامل باقی سابق فرانسیسی فوجیوں کی عمریں بیس ،پچیس سال کے درمیان ہیں۔وہ دھماکا خیز مواد بنانے اور اس کو استعمال کرنے کے ماہر بتائے جاتے ہیں۔ان میں سے بعض نومسلم ہیں اور بعض عرب مسلم پس منظر کے حامل فرانسیسی راسخ العقیدہ مسلمان تھے جو انتہا پسندی کی جانب مائل ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں