یمنی صدر حوثیوں کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے محصور صدر عبد ربہ منصور ہادی نے حوثی شیعہ باغیوں کے مجوزہ آئین میں تبدیلیوں اور شراکت اقتدار سے متعلق مطالبات کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

یہ بات امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بدھ کی رات صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ''صدر ہادی کی حکومت حوثیوں کے اگر تمام نہیں تو زیادہ تر مطالبات تسلیم کرنے جارہی ہے''۔

انھوں نے واشنگٹن میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ ''حوثیوں نے ملک میں امن اور شراکت اقتدار کے سمجھوتے اور اس کے نفاذ سے متعلق تمام مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار پر متشدد انداز اختیار کیا ہے اور اس کے نتیجے میں بعض اداروں کا بریک ڈاؤن ہوگیا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغی ابھی تک عبد ربہ منصور ہادی کو صدر تسلیم کررہے ہیں اور امریکی حکام یمنی صدر سے ایک اور ملاقات کے منتظر ہیں۔صنعا میں اسی ہفتے تشدد کے واقعات کے بعد بدھ کو صورت حال پر قدرے پُرامن رہی تھی۔جان کیری کا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ''ہمارے اہلکاروں کا بھرپور طریقے سے تحفظ کیا جارہا ہے اور ہمارے وہاں بہت سے اہلکار موجود ہیں''۔

قبل ازیں امریکی حکام نے کہا تھا کہ واشنگٹن یمن میں رونما ہونے والے واقعات اور بحران کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ منگل کو صنعا میں ایک امریکی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔

صدر منصور ہادی نے حوثیوں کے ایک عہدے دار کے ساتھ ملاقات کے بعد بدھ کی رات جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''حوثی شیعوں کو تمام ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینے اور اسامیوں پر تعینات ہونے کا حق حاصل ہے اور مجوزہ آئین کے مسودے میں ترامیم کی جاسکتی ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے صدارتی محل ،صدر کی نجی رہائش گاہ،وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ اور میزائل بیس سے جنگجوؤں کو واپس بلانے سے اتفاق کیا ہے اور وہ ان کے چیف آف سٹاف عواد بن مبارک کو بھی جلد رہا کردیں گے۔

حوثی باغیوں نے یمنی صدر کوان کی نجی رہائش گاہ تک محدود ومحصور کررکھا ہے اور وہ اس کے باہر پہرا دے رہے ہیں۔صدر کے ایک قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ منصور ہادی نے ایک حوثی عہدے دار سے ملاقات کی تھی اور وہ اپنے گھر پر نظر بند نہیں ہیں۔ حوثی شیعہ باغیوں کے سیاسی شعبے کے ایک رکن محمد بخیتی کا کہنا تھا کہ ''صدر منصور ہادی گھر پر موجود ہیں۔انھیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں اور وہ وہاں سے کہیں اور جاسکتے ہیں''۔

العربیہ نیوز چینل کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم خالد بحاح اور صدارتی گارڈز کے سربراہ محل سے جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔صدارتی گارڈز کے سربراہ جنوبی شہر عدن کی جانب گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں