شاہ عبداللہ مرحوم دہشت گردی کے خاتمے میں پیش پیش رہے

ابو متعب انتہا پسندی سے تائب افراد کی معافی کے بھی زور حامی تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی خدمات مملکت کی تاریخ کا نمایاں حصہ ہیں۔ مرحوم کا شمار اُن اہم عالمی قائدین میں ہوتا ہے دہشت گردی کے خلاف جن کا موقف واضح، سخت اور دو ٹوک تھا۔ دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کبھی حیل وحجت سے کام نہیں لیا۔

العربیہ ٹی وی نے شاہ عبداللہ مرحوم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی خدمات پر اپنی ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ سنہ 2005ء میں زمام حکومت سنھبالنے کے بعد دہشت گردی کے خلاف اندرون اور بیرون ملک میں اُنہوں نے موثر کردار ادا کیا۔ اس مقصد کے لئے مرحوم نے دہشت گردی کا عالمی مرکز قائم کیا اور ریاض میں دہشت گردی کے خلاف عالمی کانفرنس کی میزبانی کی۔

شاہ عبداللہ نے دہشت گردوں کو نہایت سخت الفاظ میں مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گرد مُجرم، سفاک اور ہر قسم کی انسانی اخلاقیات سے عاری لوگ ہیں’’۔ سعودی عرب اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے شاہ عبداللہ نے دہشت گردی کو بین الاقومی جرم قرار دینے کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی صفوں میں اتحاد پیدا کیا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے سنہ دو ہزار پانچ میں دہشت گردی کے خلاف ریاض میں عالمی کانفرنس بلائی اور خود اس کی میزبانی کی۔ ریاض میں انسداد دہشت گردی مرکز کا قیام بھی انہی کے ذہن رسا کا نتیجہ تھا۔ انسداد دہشت گردی مرکز کو عالمی سطح پر رابطے اور معلومات کے تبادلے کا ایک ذریعہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دہشت گردی کے خلاف عالمی معاہدے پر دستخط کرنے میں شاہ عبداللہ پیش پیش رہے۔ سنہ 2011ء میں سعودی عرب کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 10 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی۔ سنہ 2013ء میں اس میں مزید ایک ملین ڈالر کا اضافہ کیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے اور غیر قانونی طور پر اسلحہ اور رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے خلاف بھی ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کو فعال بنانے اور دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے باقاعدہ قانون منظور کیا گیا۔ دہشت گردوں کی ہر قسم کی مالی معاونت کو قانونی جرم قرار دیا گیا۔ شدت پسندی کی حمایت کرنے اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو کڑی سزائیں دی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی دین ومذہب نہیں۔ وہ بچوں اور معصوم شہریوں کو دہشت گردی کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر کے نہ صرف مملکت سعودی عرب کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ بیرون ملک جنگوں میں سعودی عرب کے باشندوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سعودی شہریوں کو بیرون ملک جنگوں میں گھیسٹنے یا جنگ پر اکسانے کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا۔

قصہ مختصر شاہ عبداللہ بن عبدلعزیز مرحوم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے تمام آئینی، اخلاقی اور اصولی طریقے اختیار کیے۔ انہوں نے جہاں دہشت گردی پر اصرار کرنے والوں کو کڑی سزائیں دینے کے لیے قانون سازی کی وہیں انتہا پسندی اور دہشت گردی سے تائب ہونے والوں کے لیے عام معافی کا باب بھی کھلا رکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں