شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نئے سعودی فرمانروا ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز السعود انتقال کر گئے ہیں جس کے بعد ان کے بھائی اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز ملک کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔

شاہ عبداللہ کے انتقال کا اعلان جمعہ کو علی الصباح سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق: "سلمان بن عبدالعزیز، آلِ سعود اور سعودی قوم "خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے انتقال پر انتہائی افسردہ ہے جو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ٹھیک ایک بجے دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں"۔

شاہ عبداللہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے نمونیا کے مرض میں مبتلا اور اسپتال میں داخل تھے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ جمعہ کی شام دارالحکومت ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجدمیں ادا کی جائے گی جس میں کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

شاہ عبداللہ کی عمر 91 برس تھی اور وہ اگست 2005ء میں اپنے پیش رو شاہ فہد کے انتقال کے بعد ملک کے بادشاہ بنے تھے۔ لیکن شاہ عبداللہ نے ولی عہد ہونے کے ناتے 1996ء سے ہی اپنے پیش رو شاہ فہد کی علالت کے باعث عملاً ملک کے باگ دوڑ سنبھالی ہوئی تھی۔

سعودی عرب کے نئے فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی عمر 79 برس ہے اور انہیں مرحوم شاہ عبداللہ نے 2012ء میں ولی عہد اور ملک کا وزیرِ دفاع مقرر کیا تھا۔ وہ اس سے قبل پانچ دہائیوں تک دارالحکومت ریاض کے گورنر بھی رہے تھے۔

بیان کے مطابق سلمان بن عبدالعزیز نےنائب ولی عہد شہزادہ مقرن کو اپنا جانشین اور ولی عہد مقرر کر دیا ہے اور شاہی خاندان میں نامزدگیوں کی نگران کونسل سے اس تقرری کی توثیق کرنے کی درخواست کی ہے۔

اکہتر سالہ شہزادہ مقرن مملکتِ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں اور گزشتہ دو برسوں سے مملکت کے نائب وزیرِ اعظم کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انہیں گزشتہ سال مارچ میں شاہ عبداللہ نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار نائب ولی عہد مقرر کیا تھا۔ شہزادہ مقرن سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ رہنے کے علاوہ مدینہ اور شمال مغربی صوبے حائل کے گورنر اور شاہ عبداللہ کے خصوصی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں