فرانس:مراکشی نژاد جنگجو کی شہریت ختم کرنے کا حکم برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کی اعلیٰ آئینی عدالت نے مجرم قرار دیے گئے ایک مراکشی نژاد جنگجو کی فرانسیسی شہریت ختم کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے اور اس کو قانونی قرار دیا ہے۔

یہ مشتبہ جنگجو دُہری شہریت کا حامل تھا اور اس کے وکیل نے ماتحت عدالت کی جانب سے اس کی شہریت کی منسوخی کو فرانس کی آئینی کونسل میں چیلنج کیا تھا۔اس اعلیٰ آئینی عدالت نے یہ حکم ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب حکومت نے پیرس حملوں کے دو ہفتے کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

فرانس کی ایک ماتحت عدالت نے مراکشی نژاد شہری احمد صہنونی کو مارچ 2013ء میں ایک جنگجو تنظیم سے تعلق کے الزام میں قصوروار ثابت ہونے پر سات سال قید کی سزا سنائی تھی اور گذشتہ سال مئی میں اس کی فرانسیسی شہریت منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔

صہنونی مراکش کے شہر کیسا بلانکا میں سنہ 1970ء میں پیدا ہوا تھا اور اس کو سنہ 2003ء میں فرانس کی شہریت ملی تھی۔اس پر الزام تھا کہ وہ جہادی نیٹ ورکس کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی کا نگران تھا اور وہ ان نوجوانوں کو بھرتی کرکے عراق ،افغانستان ،صومالیہ اور شمالی افریقہ کے ساحل کے خطے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔

فرانسیسی قانون کے تحت حکام دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کو شہریت سے محروم کرسکتے ہیں لیکن اگر انھیں غیر ریاستی قرار دے دیا جائے تو پھر اس اقدام پر پابندی بھی عاید کی جاسکتی ہے۔اس قانون میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ کسی غیرملکی باشندے کی فرانسیسی شہریت پندرہ سال کے اندر دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے کی صورت میں ختم کی جا سکتی ہے۔پندرہ سال کے بعد دہشت گردی میں ملوث افراد کو دس سے پندرہ سال کے لیے فرانسیسی شہریت سے محروم کیا جاسکتا ہے۔

صہنونی کے وکیل نورالدین میسکی نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون سے پیدائشی فرانسیسی شہریوں اور غیرملکی نژاد شہریوں کے درمیان عدم مساوات پیدا ہوگئی ہے اور یہ قانون انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔انھوں نے عدالت سے سوال کیا کہ ''کیا فرانسیسی لوگ دوسروں سے زیادہ فرانسیسی ہیں۔اگر کوئی قانون ساز یہ سمجھتا ہے کہ قومیت سے محروم کرنا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔

انھوں نے یہ بھی دلیل دی کہ ان کے موکل کو مراکش بدر کیا جاسکتا ہے اور وہاں انھیں بیس سال تک جیل کی سزا سنائے جانے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔وکیل نے کہا کہ کسی شخص کو دس سے پندرہ سال تک شہریت سے محروم کرنا غیر متناسب ہے۔

لیکن فرانس کی آئینی کونسل نے ان کے ان دلائل کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں سنجیدگی کے پیش نظر یہ اقدام بالکل درست ہے اور اس سے اصول مساوات کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔

آئینی کونسل نے یہ حکم ایسے وقت میں صادر کیا ہے جب فرانس اور مراکش کے دوطرفہ تعلقات میں سرد مہری پائی جارہی ہے۔فرانس نے گذشتہ سال اعلیٰ مراکشی حکام کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی شکایات کی تھیں۔اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان عدالتی سطح پر دوطرفہ تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف تعاون منجمد ہوچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں