برطانیہ: 2014ء میں 165 مشتبہ عسکریت پسند گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بیرون ملک عسکریت پسندی اوردہشت گردی کی کارروائیوں میں شمولیت کے رحجان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ برس (2014ء) میں 165 مشتبہ شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ سنہ 2013ء میں یہ تعداد صرف 25 تھی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے برطانوی پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سنہ دو ہزار تیرہ کی نسبت گذشتہ برس پکڑے گئے مشتبہ عسکریت پسندوں کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں بعض براہ راست شام میں جاری خانہ جنگی میں حصہ لے چکے ہیں بعض دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور کچھ کو شدت پسندوں کی مالی معاونت کے الزام میں پکڑا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے 165 عسکریت پسندوں میں سے صرف 64 پرعاید الزامات کی روشنی میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ لندن پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق کیسز میں گذشتہ برس 327 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ یہ تعداد اس سے پچھلے سال کی نسبت 32 فی صد زیادہ ہے۔

برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کی نیشنل کورڈینیٹر ھیلین پول کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملک اندرون اور بیرون ملک دہشت گردی میں ملوث عناصر کو حراست میں لینے کے بعد دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کو ناکام بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پکڑے گئے شدت پسندوں میں سے بیشتر شام میں جاری خانہ جنگی میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 2014ء کے آخر تک برطانیہ سے 500 افراد داعش اور دوسرے شدت پسندوں کی صفوں شمولیت کے لیے شام جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں