.

شاہ عبداللہ مرحوم کوعالمی رہنماؤں کا خراجِ عقیدت

وہ ایک راست باز، دردمند، امن دوست اور صاحب بصیرت قائد تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک روز قبل داعی اجل کو لبیک کہنے والے مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو عالمی رہنماؤں اور شخصیات کی جانب سے خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا کے شرق و غرب میں مرحوم شاہ کے انتقال پر دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا ہے۔

کئی ملکوں میں سرکاری طور پر سوگ منایا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں غائبانہ نماز جنازہ کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی قریبا تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے بھی شاہ عبداللہ کے انتقال پر دلی رنج کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی سب سے بڑی فیصل مسجد میں مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع اہم سرکاری اور سفارتی شخصیات کے علاوہ عام لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جمعہ کو علی الصبح انتقال کر گئے تھے اور انھیں بعد از نماز عصر الریاض کے العود قبرستان میں مسلم ممالک کے رہنماؤں اور اعلی ترین مملکتی زعماء اور شاہی خاندان کے افراد کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔

شاہ عداللہ مرحوم کی نماز جنازہ کے موقع پر جو عالمی رہنما موجود تھے ان میں امیر کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح، قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی ، اومان کے نائب وزیر اعظم فہد بن محمود الساعد، ترک صدر رجب طیب ایردوآن، پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور روسی وزیر اعظم بھی شامل تھے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ڈیووس سے سیدھے ریاض پہنچے تاکہ جنازے میں شریک ہو سکیں۔ اس سے قبل عالمی رہنماوں نے مرحوم شاہ عبداللہ کی عالمی امن کے لیے خدمات اور ا ن کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں زبر دست خراج عقیدت پیش کیا۔

امریکی صدر اوباما نے مرحوم شاہ عبداللہ کو ایک راست باز قائد قرار دیتے ہوئے کہا وہ گہری کمٹمنٹ رکھنے والی ایک حوصلہ مند شخصیت تھے۔ ''

امریکی صدر نے کہا '' ان کے ساتھ مل کر امریکا نے بہت سے چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور میں نے ان کے نکتہ نظر کو ہمیشہ قابل قدر پایا، ان کی بدولت دوطرفہ والہانہ اور حقیقی دوستی کا معترف ہوں۔''

شاہ عبداللہ کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں اوباما نے کہا '' امریکا اور سعودی عرب کے درمیان قربت اور دوطرفہ شراکت کی مضبوطی شاہ عبداللہ کی میراث ہے۔''

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا '' شاہ عبداللہ کے انتقال سے عالم اسلام ایک دردمند رہنما سے محروم ہو گیا ہے ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلاء پورا نہیں ہو سکے گا۔''

فرانس کے صدارتی محل سے جاری کیے گئے تعزیتی پیغام میں مرحوم شاہ عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک مدبر کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔ تعزیتی بیان میں کہا گیا ہے ''انہوں نے اپنے ملک کی تاریخ کو ایک نیا باب دیا۔''

فرانس کے صدر نے اپنے تعزیتی بیان میں مزید کہا '' شاہ عبداللہ کی بصیرت انصاف اور دائمی امن کے لیے بروئے کار رہی، ان کی یہ خدمات مشرق وسطی کے لیے بطور خاص یاد رکھی جائیں گی۔'' اس موقع پر صدر فرانس نے سعودی عوام کے ساتھ دلی تعزیت کی اور سعودی فرانس دوستی کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا '' شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے دنیا میں بین المذاہب مکالمے کو تقویت دی۔'' جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم نے شاہ عبداللہ کو عالمی امن زبردست حامی کا نام دیا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا '' شاہ عبداللہ کے انتقال سے سعودی عرب ایک ایک دانشمند اور صاحب بصیرت رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔''