اسپین میں منشیات اور دہشت گردی میں ملوث گینگ گرفتار

بھاری مقدار میں اسلحہ اور منشیات برآمد کر لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسپین کی پولیس نے ملک میں سرگرم منشیات کے ایک گینگ کا سراغ لگانے کے بعد گروہ کے کم سے کم ایک سو ارکان کو حراست میں لینے کے ساتھ 22 ٹن حشیش، دو ملین یورو اور لیبیا سے لایا گیا اسلحہ اور مشین گنوں کی بھاری مقدار بھی قبضے میں لی گئی ہے۔

ہسپانوی اخبارات ’’ال بائیس‘‘ اور’’ال موندو’’ نے بتایا ہے کہ پولیس کی کارروائی میں منشیات کے دھندے میں ملوث گینگ کا تعلق ایک شدت پسند امام مسجد سے بھی ہے اور یہ گروپ خود بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ مبینہ شدت پسند امام کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ہسپانوی وزارت داخلہ کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے ہفتے کو شمالی شہر گیب سبتۃ سے چار افراد کو حراست میں لیا۔ ان چاروں کا تعلق شمالی افریقا کے شدت پسند گروپوں کے ساتھ ہے۔ پولیس کا کہنا کے کہ گرفتار کیے گئے چاروں مشتبہ عسکریت پسند ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تاہم پولیس اور وزارت داخلہ نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اسپین کے ایک سرکردہ صحافی اور اندلس میڈیا فائونڈیشن کے چیئرمین سعید ادی حسین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کی کارروائی میں مشتبہ شدت پسندوں کی گرفتاری اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ پکڑنے کو غیر معمولی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند گروپ ملک کے طول وعرض میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور منشیات کی خریدو فروخت میں ملوث تھا اور اس کے بیرون ملک دہشت گرد گروپوں کے ساتھ بھی رابطے تھے۔

سعید ادی کا کہنا تھا کہ اسپین میں اتنی بڑی تعداد میں شدت پسندوں اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور منشیات قبضے میں لیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ شددت پسندوں کے قبضے سے نہ صرف کلاشنکوف، مشین گنز اور دوسرے ہتھیار قبضے میں لیے گئے ہیں بلکہ اس میں امریکی ساختہ اسلحہ بھی شامل ہے۔ پہلی بار ایک امام مسجد کو اس گروپ سے تعلق کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

پسپانوی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق پولیس نےاپنی تحقیقات میں بتایا ہے کہ منشیات کے دھندے میں ملوث گینگ ملک میں نہایت منظم انداز میں ایک فعال نیٹ ورک کی شکل میں کام کرتا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اس گروپ کے اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ روابط کا بھی پتا چلا ہے کیونکہ اندلس کے علاقے کے ایک امام مسجد اور مذہبی رہ نما کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس کے اس گروپ کے ساتھ روابط تھے۔

مقامی صحافی نے بتایا کہ منشیات گینگ کے خلاف پولیس نے کارروائی میں مراکشی سیکیورٹی حکام سے بھی تعاون لیا ہے۔ پولیس کو حشیش اور لیبیا سے لائے گئے اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار بھی ملی ہے جسے دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

تفتیش کے دوران اسپانوی پولیس نے بدالونا، بارسلونا، بورگوس، غرناطہ، جزیرہ سبز جزیرے، مالقا، قرطبہ اور سبتۃ شہروں میں چھاپے مارے جن میں 22 ٹن حشیش، کلاشنکوف، مشین گنز، امریکی ساختہ ایم 4 رائفلیں اور دیگر مہلک ہتھیار بھی شامل ہیں۔ مہلک ہتھیاروں پر نہ صرف ہسپانوی پولیس بلکہ امریکا کے خفیہ ادارے بھی حیران و پریشان ہیں کیونکہ ان میں بعض مشین گنیں صرف امریکی فوج کے استعمال میں ہیں۔

امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق انہوں نے بھی لیبیا میں شدت پسندوں کے مراکز سے اسلحہ اور گولہ بارود کے ایسے ذخائر پکڑے ہیں جن میں امریکی ساختہ ہتھیار بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں