جرمنی:سعودی عرب کو اسلحے کی برآمد روکنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں اتھل پتھل اور عدم استحکام کی صورت حال کے پیش نظر سعودی عرب کو اسلحے کی برآمد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جرمن اخبار بلڈ نے اپنی اتوار کی اشاعت میں لکھا ہے کہ ''سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں کے آرڈرز کو سیدھے سبھاؤ یا تو مسترد کردیا گیا ہے یا پھراس معاملے کو مزید غور کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے''۔البتہ اخبار نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اس اطلاع کی جرمن حکام کی جانب سے سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

سعودی عرب کو جرمن ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا فیصلہ گذشتہ بدھ کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔اس کونسل میں جرمن چانسلر اینجیلا مرکل ،وائس چانسلر سمگار گبریل اور سات وزراء شامل ہیں۔

اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ خطے میں اسلحہ بھیجنے کے لیے صورت حال انتہائی غیر مستحکم ہے۔تاہم سعودی عرب دین اسلام کی جائَے پیدائش ہونے کے ناتے مسلم اور عرب دنیا میں ایک اہم مقام کا حامل ہے۔اس کا اندازہ ہفتے کے روز مرحوم شاہ عبداللہ کی وفات پر سعودی عرب آنے والے عالمی رہ نماؤں سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

عرب اور مسلم ممالک کے رہ نماؤں کے علاوہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر فرانسواولاند سمیت متعدد سربراہان حکومت و ریاست شاہ عبداللہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے الریاض پہنچے ہیں۔جرمنی کی نمائندگی اس کے سابق صدر کرسٹئیں وولف نے کی۔

اخبارنے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب جرمنی سے اس کے اسلحے کا اہم خریدار ملک ہے۔سنہ 2013ء میں سعودی عرب نے جرمنی سے چھتیس کروڑ یورو (چالیس کروڑ ڈالرز) مالیت کا اسلحہ خرید کیا تھا۔اخبار کے سروے کے مطابق جرمن شہریوں نے اب مختلف وجوہ کی بنا پر سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل کی مخالفت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں