.

بھارتی یوم جمہوریہ کی طویل تقریب، سخت ترین سکیورٹی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے بھارتی یوم جمہوریہ میں اس کے باوجود شرکت کر کے ایک نئی تاریخ مرتب کی ہے کہ اس بھارتی یوم جمہوریہ کو سوا کروڑ سے زائد کشمیری عوام دنیا بھر میں سالہا سال سے یوم سیاہ کے طور پر مناتے چلے آ رہے ہیں ۔

تاکہ دنیا کو باور کرا سکیں کہ بھارت نے انہیں حق خود ارادیت سے انہیں محروم کر رکھا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کے رہنے والوں کا الزام ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت مسلسل انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا بھی ارتکاب کر رہا ہے۔

تقریبا ایک لاکھ سے زائد کشمیری بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں معذور اور ہزاروں ہی لاپتہ ہوئے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کی مودی سرکار نے اسی ماہ اوباما کا دورہ شروع ہونے سے محض کچھ دن قبل گورنر راج نافذ کر کے ریاستی اختیارات براہ راست اپنے ہاتھ میں لیے ہیں۔

آج جب اوباما نئی دہلی میں اس تقریب کا حصہ بنے تو کشمیر میں احتجاجی ہڑتال تھی ۔ بھارتی فورسز نے کشمیریوں کے اس احتجاج کو روکنے کے لیے پوری ریاست جموں و کشمیر میں بالعموم اور وادی کشمیر میں بالخصوص سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں فوجی نفری تعینات کی گئی تھی۔

بھارتی صدر اوباما یو م جمہوریہ کی تقریب دیکھنے کے لیے آئے تو ان کا اکتیس توپوں سے خیر مقدم کیا گیا ۔ وہ اس سے پہلے دوہزار دس میں بھی ایک مرتبہ بھارتی دورے پر آچکے ہیں۔ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے بھارت کے اس منتازعہ یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کی ہے۔

تقریب کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھارت نے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں ۔ فضاوں سے کسی خطرے کو دور رکھے کے لیے اس موقع پر چار سو کلو میٹر تک طیاروں کی پروازیں روک دی گئی تھی۔

واضح رہے بھارت کی اس سب سے بڑی قومی تقریب کے لیے ہرسال غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں اس کی اہم وجہ متعدد بھارتی ریاستوں میں علیحدگی پسندی کی تحریکیں ہیں۔ صدر اوباما پنڈال میں پہنچے تو وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا استقبال کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پہلا موقع ہو گا کہ اوباما کھلے میدان میں اتنی دیر کے بیٹھیں گے اس سے پہلے اوباما اپنے حلف کی تقریب میں چالیس منٹ تک کھلے میدان میں رہے تھے۔

تقریب کے آغاز ہی بھارت بحریہ سےوابستہ خواتین کے ایک دستے نے سلامی دی۔ جبکہ آرمڈ کور کا دستہ ٹی بہتر ٹینکوں کے دستے نے معزز مہمان کو سلامی دی۔ تقریب میں بھارتی فضائیہ کے ایم آئی پینتیس ہیلی کاپٹروں نے فلائی پاسٹبہ گجرات ہے جس کیا۔

تقریب کو رنگارنگ بنانے کے لیے ملک بھر سے طلبہ طالبات کے خوبصورت چہروں کو جمع کر کے ان کے ایسے دستے بنائے گئے جو ڈانس پیش کر کے داد پا رہے تھے۔ اسی طرح مہاراشٹر، مدھیا پردیش اور گجرات کی ثقافتی نمائندگی کرنے والے فلوٹ معزز مہمانوں کے سٹیج کے سامنے سے گذرتے رہے۔

امریکی صدر اوباما نے اپنے میزبانوں کے ساتھ اس تقریب کی رنگا رنگی سے خوب لطف اٹھایا جبکہ ان کے میزبان انہیں مختلف ثقافتی فلوٹس اور علاقوں کی ثقافت کے بارے میں بتاتے رہے۔ اوباما کے ساتھ امریکی خاتون اول مشعل اوباما بھی تقریب کی رنگا رنگی سے خوب محظوظ ہوئیں۔

تقریب میں ایک مشینی انداز کا تیار کردہ شیر بھی مہمانوں اور حاضرین کی خصوصی دلچسپی کا باعث رہا۔ تقریب کے اختتام پر فضا میں رنگ برنگے غبارے چھوڑے گئے۔ تو آسمان پر سماں بندھ گیا۔