.

جنیوا: لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں سوموار کو لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگیا ہے جس میں ملک میں جاری بحران کے خاتمے پر غور کیا جارہا ہے۔

مذاکرات میں لیبیا سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی گروپوں اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہیں مگر دارالحکومت طرابلس پر قابض اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے نمائندے ان میں شریک نہیں ہیں۔تاہم اس نے 15 جنوری کو جنیوا میں مذاکرات کے پہلے دور میں سمجھوتا طے پانے کے بعد لیبی فوج کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اور اس کے لیے یہ شرط عاید کی تھی کہ دوسرے گروپ بھی اس کا احترام کریں۔اس نے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں انسانی امداد مہیا کرنےکے لیے محفوظ راستے دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔

مذاکرات کے اس نئے دور سے قبل اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے خصوصی مشن نے تمام متحارب دھڑوں سے اپیل کی تھی کہ وہ لیبی عوام کے وسیع تر قومی مفاد میں کھلے ذہن اور مصالحت کے نقطہ نظر سے بات چیت میں شریک ہوں۔

مذاکرات کے پہلے دور میں لیبیا کے متحارب دھڑوں نے ملک میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام اور لڑائی ختم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل سے اتفاق کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فجر لیبیا کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا تھا اور یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جس گروہ نے بھی امن عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو اس پر پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون نے 14 جنوری کو جنیوا میں امن بات چیت کے آغاز سے قبل کہا تھا کہ وہ شمالی افریقہ کے اس ملک کو طوائف الملوکی کا مکمل طور پر شکار ہونے سے بچانے کے لیے آخری سعی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لیبیا اسلامی جنگجوؤں کی آماج گاہ بنتا جا رہا ہے۔