.

یمن میں امریکی سفارت خانہ بند کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے یمن میں طوائف الملوکی اور حکومت کے مستعفی ہونے سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر دارالحکومت صنعا میں واقع اپنے سفارت خانے کو تاحکم ثانی عوام کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صنعا میں سفارت خانے کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ''ملازمین اور سفارت خانے میں آنے والے دوسرے لوگوں کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے''۔قبل ازیں امریکی حکام نے کہا تھا کہ انھوں نے سفارت خانے میں اپنے عملے کی تعداد کم کردی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''سفارت خانہ معمول کے مطابق قونصلر خدمات مہیا نہیں کرسکے گا اور حکومت کے استعفے اور جاری سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر امریکی شہریوں کی صرف ایمرجنسی کی صورت میں محدود پیمانے پر مدد کی جاسکے گی''۔

امریکا کے ایک سکیورٹی عہدے دار نے واشنگٹن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرخبررساں ایجنسی رائیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''عوام کے لیے سفارت خانے کو بند کرنے کا اقدام اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ ''افراتفری'' میں گھرا ہوا ہے''۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور وزیراعظم خالد بحاح گذشتہ جمعرات کو حوثی شیعہ باغیوں کی صدارتی محل پر چڑھائی اور دوسری سرکاری عمارتوں پر قبضے کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔اس کے بعد سے یمنی دارالحکومت میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور فی الوقت ملک میں کسی حکومت کا وجود نہیں ہے جبکہ ایران کے حمایت حوثی شیعہ باغیوں کا صنعا اور ملک کے شمالی شہروں میں راج ہے اور وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یمن کے ساتھ القاعدہ کے خطرناک گروپ کے خلاف کارروائی کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا اور اس وقت جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے خلاف مختلف کارروائیاں جاری ہیں۔امریکی صدر براک اوباما نے بھی اتوار کو بھارت میں ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں القاعدہ کی تنظیم کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

درایں اثناء مقامی حکام کے مطابق یمن کے مشرقی صوبے مآرب میں امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے ایک کار پرایک میزائل داغا ہے جس کے نتیجے میں اس میں سوار لقاعدہ کے تین مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔