امن و استحکام کے لیے تہران، ریاض سے تعاون پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک خطے میں امن و استحکام کےقیام کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون پر تیار ہے۔

تہران میں یوکرائنی ہم منصب فینسا بوسٹیس کےہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جواد ظریف کا کہنا تھا کہ خطے میں دیر پا امن کا قیام تہران کی اولین ترجیح ہے۔اس مقصد کے لیے ان کا ملک سعودی عرب سمیت تمام علاقائی ملکوں کے ساتھ تعاون پر تیار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے کے عرب ملکوں کے ساتھ تہران کے تعلقات ماضی کی نسبت اب بہتر ہو رہے ہیں۔ ہم سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی وقت کہیں بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ امید ہے کہ سعودی عرب اور دوسرے برادر ملک بھی ایسے ہی جذبے کا اظہار کریں گے۔ انہوں ‌نے کہا کہ خطے کی اقوام کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے حکومتوں کو ایک دوسرے کے قریب آنا پڑے گا۔ ایران خطے میں امن واستحکام کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کی ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے ہفتے کے روز شاہ عبداللہ کی وفات پر تعزیت کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ ریاض کا دورہ کیا جہاں انہوں ‌نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز اور نائب ولی علی شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات کی تھی۔

ریاض آمد پر ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی آمد ما مقصد صرف شاہ عبداللہ کی وفات پر سعودی قوم سے تعزیت کرنا ہے۔ جواد ظریف نے کہا کہ ان کی جانب سے سعودی وزیرخارجہ کو دورہ ایران کی دعوت اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب پڑوسی ملک ہی نہیں بلکہ دونوں برادر ملک ہیں۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات پر ایران بھی دکھ کی گھڑی میں سعودی قوم کے ساتھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں