جاپان اپنے صحافی اور اردنی پائیلٹ کی بازیابی کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جاپان شام اورعراق میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ہاتھوں یرغمال ایک جاپانی صحافی اور ایک اردنی پائیلٹ کی بازیابی کے لیے کوششیں کررہا ہے۔

داعش نے گذشتہ ہفتے ایک جاپانی کنٹریکٹر ہارونا یوکاوا کا اپنی 72 گھنٹے کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد سرقلم کردیا تھا۔داعش نے اس جاپانی کی رہائی کے لیے بیس کروڑ ڈالرز تاوان دینے کا مطالبہ کیا تھا۔دوسری صورت میں اس کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس جنگجو گروپ نے ہفتے کے روز ایک نئی ویڈیو جاری کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ اب اس کا مطالبہ تبدیل ہوگیا ہے اور اس نے اردن میں پھانسی کی منتظر ناکام خودکش بمبار ساجدہ الریشاوی کا جاپانی صحافی کینجی گوٹو کے بدلے میں رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے گوٹو کی رہائی کے سلسلے میں جاپان کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ان سے عمان میں جاپان کے نائب وزیرخارجہ یوہیدا ناکایاما نے ملاقات کی ہے اور ان سے اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔

جاپانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اردن کی ترجیح اس کے اپنے پائیلٹ کی رہائی ہے۔تاہم جاپان کا اصرار ہے کہ وہ دونوں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کوشاں ہے۔ ناکایاما نے عمان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اردنی پائِیلٹ کی رہائی جاپان کا بھی ایشو ہے اور دونوں ممالک دونوں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں''۔

جاپان اگر اس طرح داعش کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ کرتا ہے تو اس کو امریکا کی جانب سے مزاحمت یا مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی سے جب اس تازہ پیش رفت کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ''قیدیوں کا تبادلہ تاوان ادا کرنے کے مترادف ہی ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں