.

طرابلس :لگژری ہوٹل میں تین خودکش بمبار دھماکوں میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک لگژری ہوٹل میں دھاوا بولنے والے مسلح افراد نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔قبل ازیں انھوں نے ایک کار بم دھماکے میں تین محافظوں کو ہلاک کردیا تھا۔

العربیہ نیوز کی اطلاع کے مطابق ان مسلح حملہ آوروں نے پہلے ہوٹل کے بیرونی دروازے پر کار بم دھماکا کیا تھا جس سے تین محافظ ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعد یہ مسلح افراد ہوٹل میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے ان حملہ آوروں کا پیچھا کرکے انھیں ہوٹل کی اکیسویں منزل میں محصور ومحدود کردیا تھا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملہ آوروں نے گھیرا تنگ ہونے کے بعد خود کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔

ایک مقامی ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق طرابلس میں فجر لیبیا کی قیادت میں قائم حکومت کے وزیراعظم اور تین غیرملکی شہریوں کو ہوٹل سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔وہ حملے کے وقت ہوٹل میں موجود تھے۔واضح رہے کہ اس ہوٹل میں سینیر حکومتی عہدے دار اور غیرملکی وفود ٹھہرتے ہیں۔

طرابلس کی سکیورٹی فورسز کے ترجمان اعصام نعاس نے بتایا کہ ''سکیورٹی فورسز مہمانوں کو باری باری ایک ایک منزل سے بحفاظت نکال رہے ہیں اور مسلح افراد اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔یہ بھی امکان ہے کہ مسلح افراد نے ہوٹل کی تئیسویں منزل میں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے''۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ طرابلس کے ہوٹل پر کس جنگو گروپ نے حملہ کیا ہے لیکن امریکا میں قائم سائٹ مانیٹرنگ سروس کا کہنا ہے کہ دولت اسلامی (داعش) سے وابستہ ایک جنگجو گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

سائٹ نے سوشل میڈیا کے حوالے سے اس گروپ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ اس نے یہ حملہ نیویارک میں القاعدہ کے رکن ابوانس اللبی کی موت کا بدلہ چکانے کے لیے کیا ہے۔ابوانس اللبی پر تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر 1998ء میں بم حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔وہ اسی ماہ نیویارک میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے آغاز سے قبل ہی پراسرار حالات میں موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔