عالمی ایشوز پر روس۔ اسرائیل موقف ہم آہنگ ہے: لافروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کے وزیرخارجہ سرگی لافروف نے کہا ہے کہ عالمی مسائل کے حوالے سے ان کے ملک اور اسرائیل کے موقف میں زیادہ اختلاف نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ عالمی قانون ہی کے تحت ہونی چاہیے۔ تل ابیب اور ماسکو کے اس کے سوا کسی دوسرے راستے کے حامی نہیں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد ماسکو میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مسٹر لافروف کا کہنا تھا کہ ماسکو کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی امن فوج کی تعیناتی کی تجویز سے اتفاق ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے تجویز دی تھی کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نگرانی میں ‌ایک کمیشن قائم کرنے کے ساتھ عالمی امن فوج کی تعینات کی جائے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقوام متحدہ کے فورم کو استعمال کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا اور کہا کہ عالمی قوانین کو بائی پاس کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی ہے۔

روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کے لیے بڑے عرب ممالک فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکا اور روس پر مشتمل گروپ چار کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی ہر کوشش میں تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے تمام اسٹیک ہولڈر کی بات سنی جائے۔

سرگی لافروف نے خبردار کیا کہ فلسطین۔ اسرائیل تنازع حل ہوا نہ تو خطے میں مذہبی بنیادوں پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔ عالمی برادری اورعرب ممالک خطے میں مذہبی جنگ چھڑنے کو روکنے کے لیے فلسطین۔ اسرائیل تنازع حل کرائیں۔ قبل ازیں اسرائیلی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطین ۔ اسرائیل الگ سے کوئی تنازع نہیں بلکہ اصل تنازع عربی اور یہودی کا ہے جو پچھلی ایک صدی سے چلا آ رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی روسی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات میں ماسکو کی جانب سے ایران کو "ایس 300" میزائلوں کی فراہم پر بھی بات چیت کی گئی۔

روسی وزیرخارجہ نے ایران کے جوہری تنازع کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ ماسکو ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال کا حامی نہیں بلکہ جوہری تنازع کا بات چیت کے ذریعےمثبت حل نکالا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ نے روسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران ایران اور حزب اللہ کے لیے بھی بالواسطہ طور پر یہ پیغام دیا تل ابیب کسی فریق سے کشیدگی پیدا نہیں کرنا چاہتا ہے۔ تاہم اگر اسرائیل کی قومی سلامتی کو کوئی خطرہ ہوا تو اسے دور کرنے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آوی گیڈورلائبرمین کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی دشمن طاقتوں کو مسلح کرنے کی کسی صورت میں حمایت نہیں کی جائے گی اور تل ابیب ہر سطح پر اس کی مزاحمت کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں