.

ماسکو:شام کے متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کی شخصیات اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے نمائندوں کے درمیان روس کے دارالحکومت ماسکو میں بدھ کو بات چیت شروع ہوگئی ہے۔اس کا مقصد شام میں گذشتہ قریباً چار سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی بحالی ہے۔

روس کی میزبانی میں ہونے والی اس بات چیت میں اسد حکومت کے لیے قابل قبول حزب اختلاف کے بتیس ارکان شریک ہیں جبکہ چھے رکنی حکومتی وفد کی قیادت اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشارالجعفری کررہے ہیں۔

ان مذاکرات سے کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں ہے کیونکہ شام کی جلاوطن حزب اختلاف کے بڑے گروپ شامی قومی اتحاد نے ان میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ روس صدر بشارالاسد کا حامی ومؤید ہے،اس لیے وہ ایک دیانت دار ثالث نہیں ہوسکتا۔

حزب اختلاف کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کے وفد نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک دس نکاتی فہرست پیش کی ہے۔تاہم مذاکرات میں شریک حزب اختلاف کی شخصیات صدر بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی اور ان کی جگہ ایک عبوری حکومت کے قیام پر اصرار نہیں کریں گی۔ابتدائی اجلاس کے بعد آج سہ پہر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف شامی وفد سے ملاقات کرنے والے تھے۔