سڈنی کیفے، یرغمال بنائی گئی خاتون پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوئی

عدالتی تحقیقات میں انکشاف، کیفے مینیجر مونس کی گولی سے ہلاک ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پچھلے ماہ سولہ دسمبر کو سڈنی کے ایک کیفے میں مبینہ انتہا پسندوں کی طرف سے شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی عدالتی تحقیقات میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ ہلاک ہونے والی خاتون عسکریت پسند کی گولی سے نہیں پولیس کی چلائی گئی گولیوں سے ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پچاس سالہ ایرانی نژاد ہارون مونس نے صرف دو گولیاں چلائی تھیں، جبکہ پولیس حکام نے تقریبا بائیس گولیاں چلائیں۔ اس سے پہلے پولیس نے روشنی کرنے والے گیارہ گولے بھی پھینکے تھے۔

عدالتی رپورٹ کے مطابق اڑتیس سالہ بیرسٹر کترینہ ڈاوسن کیفے کے مینیجر چونتیس سالہ ٹوری جانسن کے ہمراہ ہلاک ہوئیں۔ کترینہ تین بچوں کی ماں تھی۔ کترینہ کو پولیس کی طرف سے فائر کی گئی گولیوں کے چھ ٹکڑے لگے۔ یہ ٹکڑے کترینہ کے جسم میں داخل ہو گئے تھے۔

عدالتی تحقیقات میں مدد دینے والے وکیل جرمی گورملی نے اس حوالے سے کہا "میں اس ہونے والے نقصان کی تفصیلات ظاہر کروں گا، تاہم گولیوں کے ان ٹکڑوں سے کترینہ کی خون کی نالی میں چلی گئیں اور وہ بے ہوش ہو کر فوری انتقال کر گئیں۔"

آسٹریلوی عدالت نے یہ تحقیقات کیفے میں پیش آنے والے واقعے کی تہہ تک پہنچنا چاہتی ہے کہ ہلاکتیں کیسے ہوئیں۔ دوسری جانب حکومت نے ایک الگ تحقیقات بھی شروع کر رکھی ہیں۔ یہ تحقیقات وفاقی اور نیو ساوتھ ویلز کی حکومتیں مل کر کر رہی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ دوسرا یرغمالی جانسن ایرانی نژاد مسلح شخص ہارون مونس کے ہاتھوں ہلاک ہوا تھا۔ اسے ہارون مونس نے بغیر کسی پیشگی وارننگ کے گولی مار دی تھی۔

عدالتی معاون وکیل نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے کی گئی فائرنگ پر پولیس افسران نے انگلی اٹھائی تھی کہ پولیس کے ایسے لوگوں کو زیادہ تربیت اور مہارت کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں