.

عراق: پناہ گزینوں کی حالت زار پر انجلینا گنگ ہو گئی

گھروں میں رہ کر اقدار محفوظ نہ بنائیں، نیویارک ٹائمز میں تحریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالی وڈ کی نامور اداکارہ اور انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں متحرک رہنے والی انجلینا جولی نے عراق میں داعش کے مظالم سہنے والوں کی حالت زار کو اب تک کی سب سے بڑی مظلومیت کا نام دیا ہے۔

جولی نے شمالی عراق میں ان متاثرین اور بے گھروں کے لیے قائم کیمپوں کے دورے کے فوری بعد نیویارک ٹائمز میں لکھے گئے اپنے ایک کالم میں کہا ہے ''میں نے ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جیسا میں شمالی عراق میں دیکھا ہے۔ ''

اس لیے ضروری ہے کہ اب ہم اہل مغرب اپنی اقدار کا دفاع محض اپنے گھروں، دفاتر، اداروں یا اخبارات کی حد تک نہ کریں بلکہ اب اپنی اقدار کے تحفظ کے لی پناہ گزینوں کے مشرق وسطی میں قائم کیمپوں تک جانا ہو گا اور تباہی کے بعد بھوتوں کی بستیوں کا روپ دھار جانے والے شہروں اور قصبوں میں جانا ہو گا۔

جولی نے اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح سے اقدامات کیے جانے پر بھی زور دیا۔ تاکہ ان متاثرین اور مصیبت زدوں کی مدد ہو سکے۔

جولی نے اپنی تحریر میں کہا ہے '' میں نے اس سے پہلے بھی بارہا عراق کا دورہ کیا ہے، دوہزار سات سے لے کر اب تک سات مرتبہ عراق جا چکی ہوں، اس دوران پناہ گزینوں کے کیمپوں کا بھی دورہ کیا اور پناہ گزینوں پر بیتنے والی کہانیاں بھی سنیں، لیکن جو کیفیت میری اس بار ہوئی پہلے کبھی نہ ہو سکی تھی۔''

میں نے ہمیشہ متاثرین کی دل جوئی کی، انہیں دلاسہ دیا اور انہیں مفید مشورے دیے لیکن اس بار کے مظالم دیکھ کر میں جیسے گنگ سی ہو گئی۔''

جولی کے مطابق ان کیمپوں میں ایک ایسی تیرہ سالہ بچی کی مظلومیت کی کہانی بھی سامنے آئی۔ جسے دوسری خواتین کے ساتھ رکھا گیا اور انہیں جبری زیادتی کے لیے ہر روز تین بار اس جگہ سے باہر لے جایا جاتا تھا۔

انجلینا جولی نے کہا جب آپ کی ہم عمر خواتین سے ملاقات ہو جن کے سامنے ان کے اہل خانہ کو ہلاک کیا گیا ہے تو آپ کی حالت کیا بنے گی۔ انہی میں سے ایک ایسی خاتون بھی تھی جس کے تمام گھر والے اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیے گئے اور اب وہ ایک کیمپ میں اکیلی ہے، جہاں اسے برائے نام خوراک دی جاتی ہے۔

ہالی وڈ کی اداکارہ نے کہا ''یہ سب کچھ سن اور دیکھ کر میں گنگ ہو کر رہ گئی۔'' لیکن اب ہمیں اپنی اقدار کے تحفظ کے لیے صرف گھروں میں بیٹھ کر باتیں نہیں کرنا ہیں۔