.

مصری خواتین کا شیما الصباغ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں خواتین کے ایک گروپ نے سیاسی کارکن شیما الصباغ کی 25 جنوری کو یومِ انقلاب کے موقع پر ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

بتیس سالہ شیما گذشتہ ہفتے کے روز 25 جنوری انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی تھیں۔ان کی دوستوں کا کہنا ہے کہ انھیں گولی ماری گئی تھی۔ان کی خون آلود تصاویر اور ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے جس کے بعد سے مصر کے مختلف طبقوں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

قریباً ایک سو خواتین مظاہرات جمعرات کو شیما الصباغ کی ناگہانی موت کی جگہ اکٹھی ہوئیں اور انھوں نے مصری وزارت داخلہ کے خلاف نعرے بازی کی ہے اور اس کو ٹھگ قرار دیا ہے۔بعض خواتین نے وزیرداخلہ محمد ابراہیم کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور اس کے اوپر لفظ ''قاتل'' لکھا تھا۔بعض خواتین نے ایسے پلے کارڈز پکڑ رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ'' وزیرداخلہ شیما الصباغ کے قتل میں مطلوب ہیں''۔

واضح رہے کہ مصری حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ایک قانون کے تحت ملک میں عوامی مقامات پر مظاہروں اور اجتماعات پر پابندی عاید ہے لیکن اس کے باوجود خواتین کارکنان دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے خلاف گھروں سے نکلی ہیں اور انھوں نے خود کو خطرے میں ڈال کر ریلی میں شرکت کی ہے۔

قاہرہ میں خواتین کے اس احتجاجی مظاہرے کے مقابلے میں حکومت کے حامیوں نے بھی ایک چھوٹی ریلی نکالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''دہشت گرد اور غدار ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں''۔مقتولہ شیما الصباغ بائیں بازو کی ایک چھوٹی جماعت سوشلسٹ پاپولر الائنس سے تعلق رکھتی تھیں۔اس جماعت نے مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے لیکن اب وہ موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے مخالفین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن پر بھی احتجاج کررہی ہے۔