.

"اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاھو سے ملاقات مناسب نہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے دورہ امریکا کے دوران ان سے ملاقات نہیں کریں گے کیونکہ اسرائیلی انتخابات سے قبل ان سے ملاقات مناسب نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم اگلے ماہ مارچ کے پہلے ہفتے میں امریکا کا دورہ کریں گے اور اسی مہینے میں اسرائیل میں‌ پارلیمانی انتخابات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کو معمول کے سفارتی طریقہ کار کے برعکس امریکی دورے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت ری پبلیکن رُکن کانگریس سینٹر جون بینر کی جانب سے دی گئی جس میں ان سے کانگریس سے خطاب کے لیے کہا گیا ہے۔ اس دعوت کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما اور ڈیموکریٹس ارکان کو بھی مطلع نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے 17 مارچ کو ملک میں‌ پارلیمانی انتخابات کابھی اعلان کیا گیا ہے۔ وسط مدتی انتخابات میں‌ بھی نیتن یاھو اور ان کے مقرب بنیاد پرست یہودی گروپوں کی کامیابی کی توقع کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے "سی این این"‌ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات نہیں کروں گا کیونکہ یہ مناسب وقت نہیں ہو گا۔ ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم ایسے کسی عالمی رہ نما سے ملاقات نہ کریں جس کے ملک میں انتخابات کو محض دو ہفتے باقی رہ گئے ہوں۔ میں سمجھتا ہوں ‌کہ نیتن یاھو سے ملاقات غیر مناسب ہو گی کیونکہ ان کے دورہ امریکا کے محض دو ہفتوں ‌بعد اسرائیل میں بھی پارلیمانی انتخابات ہوں ‌گے"۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل کسی دوسرے ملک کے لیڈر سے ملاقات نہ کرنا صرف اسرائیل کے حوالے سے نہیں بلکہ یہ پالیسی تمام دوست ملکوں کے حوالے سے اختیار کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن واشنگٹن دورے پر آئے تو برطانیہ میں چند روز بعد پارلیمانی انتخابات ہونا تھے۔ میں نے کیمرون سے ملاقات نہیں کی۔ ایسے میں جب کہ انتخابات سر پر ہوں اس ملک کے لیڈر سے ملاقات انتخابی عمل میں مداخلت کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو نے امریکی کانگریس سے خطاب کی دعوت قبول کی ہے تاہم انہوں‌ نے صدر اوباما سے اپنے تعلقات میں کشیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی پالیسی کا دفاع بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس سے خطاب اسرائیل کی تزویراتی ضرورت ہے۔ اخلاقی طور پر بھی مجھے کانگریس سے خطاب کی دعوت کو قبول کرنا چاہیے۔