.

حوثی باغیوں نے طلبہ مظاہرین کو اغوا کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا سے العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حوثی شیعہ باغیوں نے اپنے خلاف احتجاج کرنے والے جامعہ صنعا کے متعدد طلبہ کو اغوا کر لیا ہے۔

نمائندے نے مزید بتایا ہے کہ حوثی تحریک کے مسلح جنگجوؤں نے یونیورسٹی کے طلبہ کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا ہے۔یمنی دارالحکومت میں باغیوں کے قبضے کے خلاف طلبہ اور عام شہریوں کا احتجاج جاری ہے اور وہ شہر کے مختلف مقامات پر مظاہرے کررہے ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حوثی باغیوں نے اس ہفتے کے دوران اپنے خلاف صنعا میں تیسری بڑی ریلی کو روکنے کے لیے بیسیوں افراد کو گرفتار لیا ہے۔انھوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ڈنڈے برسائے ہیں جس سے متعددافراد زخمی ہوگئے ہیں۔

گذشتہ اتوار کے بعد یمنی شہریوں پر تشدد کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔حوثیوں کے مخالفین دارالحکومت صنعا پر ان کے قبضے کے خلاف شہریوں کو احتجاجی مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی اپیلیں کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کے شمال سے تعلق رکھنے والے حوثی شیعہ باغیوں نے 21 ستمبر2014ء سے صنعا پر قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے سرکاری فورسز کو مار بھگانے کے بعد اب وہاں صدارتی محل سمیت تمام سرکاری عمارات اور شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور وزیراعظم خالد بحاح 22 جنوری کو حوثی شیعہ باغیوں کی صدارتی محل پر چڑھائی اور دوسری سرکاری عمارتوں پر قبضے کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔ یمنی پارلیمان نے ابھی تک صدر کا استعفیٰ منظور نہیں کیا ہے۔گذشتہ اتوار کو پارلیمان نے استعفے پر غور کے لیے ایک مرتبہ پھر اپنا اجلاس مؤخر کردیا تھا جس سے حکومت کے خلاء کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔

یمنی دارالحکومت میں اس وقت طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور ملک میں کسی مرکزی حکومت کا وجود نہیں ہے جبکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کا صنعا اور ملک کے شمالی شہروں میں راج ہے اور وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

حوثی اہل تشیع کے زیدی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کے مخالفین انھیں ایران کے آلہ کار قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں بھی ایران کی طرح کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔تاہم حوثی اس الزام کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔انھیں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے حامیوں کی بھی مدد حاصل ہے۔

حوثی جنگجو دارالحکومت پر قبضہ کے بعد سے اپنی عمل داری ملک کے جنوبی شہروں کی جانب بھی بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انھیں یمن کے دوسرے بڑے شہر تعز سمیت جنوبی شہروں میں اخوان المسلمون سے وابستہ الاصلاح کے حامیوں ،سنی قبائل اور القاعدہ کے جنگجوؤں کی سخت مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔