مصر:سیناء میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، 27 ہلاک

القاعدہ کی حامی انصار بیت المقدس نے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے شمالی علاقے صحرائے سینا میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم انصار بیت المقدس نے جمعرات کی شب سیکیورٹی اہلکاروں پر سلسلہ وار بم حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ان حملوں میں 27 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات تھیں۔

عسکریت پسند گروپ سے وابستہ ٹویٹر اکاؤنٹ پر انصار بیت المقدس نے شمالی سیناء اور صوبہ سویز میں یکے بعد دیگرے متعدد اہداف پر کئے جانے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

صوبہ شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش میں کار بم دھماکے اور مارٹر گولوں سے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس میں متعدد فوجی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ شیخ زوید اور رفح کے قصبوں میں بھی پرتشدد کارروائیاں کی گئی ہیں۔

سنہ 2013 میں صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے مصر میں پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ العریش میں فوجی اڈے کے باہر کار بم دھماکا کیا گیا اور فوجی ہوٹل، پولیس کے کلب اور ایک درجن چیک پوائنٹس پر مارٹر کے گولے برسائے گئے۔

کثیرالاشاعت مصری اخبار 'الاہرام' نے آن لائن ایڈیشن میں اطلاع دی ہے کہ العریش میں فوجی ہوٹل کے سامنے ان کا دفتر ان حملوں میں مکمل تباہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ رفع چیک پوائنٹ پر جیک مصری فوجی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

شمالی سیناء میں اکتوبر میں اس وقت ایمرجنسی اور کرفیو نافذ کی گئی جب ایک چیک پوسٹ پر حملے میں درجنوں فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے مصری فوج نے آپریشن کا آغاز کیا ہے لیکن علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کے ان حملوں سے صاف ظاہر ہے کہ حملوں کی منصوبہ بندی بہتر طور پر کی گئی تھی۔ جہادی تنظیم ’انصار بیت المقدس‘ دولت اسلامیہ کی حامی ہے اور اس نے مصری عوام سے صدر عبدالفتاح السیسی کے خلاف بغاوت کا کہا ہے۔

مصر اپنی سرحد اور غزہ کے درمیان ایک کلومیٹر کا بفر زون بنا رہا ہے تاکہ شدت پسند فلسطینی علاقوں میں ہتھیار سمگل کر کے نہ لے جاسکیں۔ اس منصوبے سے رفع میں ایک ہزار فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں