امریکا کو عراق میں زمینی دستوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ہیگل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ برس نومبر میں مستعفی ہونے والے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے ملک کو عراق میں غیر لڑاکا زمینی افواج اتارنا پڑ سکتی ہے تاکہ دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی فورسز کا مقابلہ کرنے میں مدد کی جا سکے۔

مسٹر ہیگل نے امریکی نشریاتی ادارے ۔سی این این۔ کو بتایا کہ عراق میں تمام آپشنز پر غور کیا جانا چاہئیے ہے جن میں غیر جنگی دستے شامل ہیں جو کہ معلومات اکٹھا کرنے اور داعش کے ٹھکانوں کی تلاش کا کام کریں گے۔

ان کا کہنا تھا "میرے خیال میں ہمیں اپنے کچھ دستوں کو تعینات کرنا پڑے گا۔ میں یہ کہوں گا کہ ہم ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچے ہیں۔ ہم اس مرحلے تک پہنچ بھی سکیں گے یا نہیں مجھے علم نہیں ہے۔"

چک ہیگل کے بیان میں امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چئیرمین جنرل مارٹن ڈیمپسی کے کانگریس کو دئیے گئے بیان حلفی کی بازگزشت سنائی دی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی دستوں کو عراق میں بڑا کردار کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی دستوں کی ایسی تعیناتی ان 4500 امریکی فوجیوں کے علاوہ ہو گی جو کہ عراق میں ٹریننگ اور مشاورت کے لئے مصروف عمل ہیں۔

امریکی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ان کے کیوبا میں امریکی حراستی مرکز گوانتانامو بے سے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر وائٹ ہائوس کے عہدیداروں سے اختلافات تھے۔

بطور وزیر دفاع ہیگل نے قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی تھی۔ انہوں نے ٹی وی کو بتایا کہ وائٹ ہائوس نے ان کے محتاط نقطہ نظر سے اتفاق نہ کیا اور انہیں رہائیوں کے درمیان وقفوں کے دورانیے پر اعتراضات تھے۔

ہیگل نے خود پر ڈالے جانے والے دباو سے متعلق سوال پر کہا کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق وائٹ ہائوس اور کانفریس سے وزارت دفاع کی بہت ساری بحث ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں