حوثیوں کی ہٹ دھرمی سے یمنی بحران حل کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں‌ جاری سیاسی بحران کےخاتمے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت اور حوثی شدت پسندوں کے مابین مفاہمتی کوششیں ایک بار پھر ناکام ہو گئی ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی شدت پسندوں نے عبد ربہ منصور ھادی کے منصب صدارت سے استعفیٰ پر غیر لچک دار رویہ اختیار کیا ہے جس کے بعد بحران کے خاتمے کی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ صدر عبد ربہ منصور ھادی نے حوثیوں کے مسلسل دبائو کے بعد چند روز پیشتر منصب صدارت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ملک کی مختلف سیاسی قوتوں کی جانب سے صدر کو استعفیٰ دینے سے روکنے اور حوثیوں کو صدر کے استعفیٰ کا مطالبہ واپس لینے کے لیے بات چیت شروع کی گئی تھی۔ دارالحکومت صنعاء‌ کے ایک ہوٹل میں بات چیت پچھلے چار روز میں مسلسل جاری رہی ہے۔

یمنی حکومت کے ایک ذریعے کے مطابق پچھلے چار دنوں میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمرو کی موجودگی میں اہم سیاسی رہ نمائوں کے مسلسل اجلاس ہوتے رہے ہیں۔ ان اجلاسوں میں حوثی نمائندوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے دھڑے کی جانب سے صدر کے استعفے کے مطالبے پر لچک دکھانے سے انکار کیا گیا اور متبادل صدارتی کونسل کی تشکیل کے مطالبے پر قائم رہے جس کے نتیجے میں بات چیت کا عمل آگے نہیں ‌بڑھ سکا ہے۔

قبل ازیں‌ جمعہ کے روز جنوبی یمن کے سیاسی گروپوں نے بھی ملک میں امن و شراکت کے معاہدے کے تحت مزید مذاکرات جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مفاہمتی مذاکرات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ جنوبی یمن کے علاحدگی پسندوں کا کہنا تھا کہ مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔ نیز جب تک جنوبی یمن کا فوجی محاصرہ ختم نہیں‌ کیا جاتا اس وقت تک مذاکرات نتیخہ خیز ثابت نہیں ‌ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ یمن میں متحارب سیاسی دھڑوں کے مابین مفاہمتی بات چیت ایک ایسے وقت میں ‌ہو رہی ہے جب دوسری جانب حوثیوں‌ کی مسلح بغاوت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں