.

داعش نے دوسرا جاپانی یرغمالی بھی قتل کر دیا

ٹوکیو کی اپنے شہریوں کی داعش کے ہاتھوں ہلاکت کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں داعش نے اپنے ہاں یرغمال دوسرے جاپانی شہری کینجی گوٹو کو اپنے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی بنا پر قتل کر دیا ہے۔

ٹوکیو نے داعش کے ہاتھوں گوٹو کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

اس سے قبل دولت اسلامیہ نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے ایک اور جاپانی مغوی ہارونا یوکاوا کو قتل کر دیا ہے۔ تنظیم نے یوکاوا کے لیے 20 کروڑ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

دولت اسلامیہ 'داعش' نے 'جاپان حکومت کے نام پیغام' کے عنوان سے انٹرنیٹ پر ویڈیو جاری کی ہے جس میں کینجی گوٹو کو ایک چھری بردار جنگجو کے سامنے جھکے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ منظر داعش کے ہاتھوں غیر ملکیوں کے اس سے پہلے کئے جانے والے قتل سے مشابہہ ہے۔ چہرہ ڈھانپے سیاہ لباس میں ملبوس جنگجو اپنے اقدام کو مغربی دنیا کے لئے 'ڈرونا خواب' قرار دیتے ہوئے دھمکی دیتا ہے کہ 'پوری فوج تمہارے خون کی پیاسی ہے۔'

یہی جنگجو جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ 'تمہاری جنگ میں شرکت کی باعث ہماری چھری صرف کینجی گوٹو کی جان نہیں لے گی بلکہ یہ تمہاری قوم کا ہر جگہ پیچھا کرے گی۔ وہ اپنی دھمکی کا اختتام کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'جاپانیو! اب تمہارا ڈرونا خواب شروع ہوتا ہے۔" جس کے بعد وہ یرغمالی ذبج کرنا شروع کرتا ہے۔

منگل کو جاری کی گئی ویڈیو میں ایک شخص نے دھمکی دی تھی کہ ’گوٹو کی زندگی کے اب صرف 24 گھنٹے بچے ہیں‘ اور اگر اردن نے القاعدہ کی جنگجو خاتون ساجدہ الریشاوی کو رہا نہیں کیا تو اردن کے باشندے معاذ الکساسبہ کے پاس ’اس سے بھی کم وقت ہے۔‘

الریشاوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کی جنگجو ہیں۔ انھیں اردن میں سنہ 2005 کے ایک حملے میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس میں 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری جانب منگل کی رات اردن کے پائلٹ کے رشتہ داروں اور حامیوں نے عمان میں وزیر اعظم کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور ان پر دولت اسلامیہ کے مطالبے پورا کرنے کے لیے زور دیا۔ عمان میں گذشتہ رات معاذ کی رہائي کے لیے دولت اسلامیہ کا مطالبہ پورا کرنے کے لیے مظاہرہ کیا گیا۔

پائلٹ کے والد صفی الکساسبہ نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا: ’معاذ کے تحفظ کا مطلب اردن کا استحکام ہے اور اس کی موت کا مطلب اردن کا انتشار ہے۔‘ واضح رہے کہ معاذ کو اس وقت پکڑ لیا گیا تھا جب اس کا طیارہ دسمبر میں دولت اسلامیہ کے علاقے میں گر گیا تھا۔

47 سالہ کینجی گوٹو دستاویزی فلمیں بنانے والے آزاد صحافی ہیں جو اکتوبر میں شام گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اور جاپانی شہری ہارونا یوکاوا کی رہائی کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔ اتوار کو ایک ویڈیو میں بظاہر انھیں یوکاوا کی لاش کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔