.

حریف دوشیزہ نے برازیلی ملکہ حسن کے سر سے تاج نوچ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برازیل میں پچھلے کچھ عرصے سے ملکہ حُسن کا انتخاب ایک اہم "ایونٹ" کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ برازیلی عوام ملکہ حسن کے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور ٹی وی چینلوں تقریب کی براہ راست کوریج کی جاتی ہے۔ اب تک برازیل میں ملکہ حسن کے انتخاب کے مراحل کسی ناخوش گوار واقعے کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے رہے ہیں لیکن پرسوں ہفتے کو علی الصباح امازون شہر میں ہونے والی ایسی ہی تقریب میں مقابلے میں شامل ایک لڑکی نے ملکہ حسن منتخب ہونے والی دوشیزہ کو بالوں سے پکڑا اور اس کے سر سے تاج اتار پھینکا۔

تقریب میں عام شہریوں، شوبز کی اہم شخصیات اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی اور بعض ٹی وی چینلز پر یہ تقریب براہ راست نشر بھی کی جا رہی تھی۔

برازیلی اخبارات کے مطابق مقابلے میں ایک لبنانی نژاد دوشیزہ سمیت 12 امیدوارائوں نے حصہ لیا۔ تقریب میں جیوری کی جانب سے 20 سالہ "کیرولینا تولیدو" کے ملکہ حسن کے طور پر انتخاب کا اعلان کرنے کے بعد ابھی اس کے سرپرتاج سجایا ہی گیا تھا اس کی حریف فیشن ماڈل شیزلان آیالا نے اس پر حملہ کردیا۔ تولیدو کو سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور اس کے سر سے سونے کا تاج اتارکر پھینک دیا۔

شیزلان ملکہ حسن قرار پانے والی تولیدو سے عمر میں تین سال بڑی ہے اور وہ اب تک متعدد مرتبہ ملکہ حسن کے حوالے سے ہونے والے مقابلوں میں حصہ لیتی رہی مگرملکہ حسن کا تاج سر پر سجانے میں کامیاب نہیں‌ ہوسکی ہے۔ اس کی اس حرکت پر تولیدو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ شیزلان حسد کا شکار ہے۔ وہ بار بار ناکامی کے بعد اب غیرقانونی راستہ اختیار کرنے پر اتر آئی ہے۔ تاہم خود شیزلان کا کہنا ہے کہ اس نے جو بھی کیا اس پر اسے کوئی شرمندگی نہیں۔ اس نے جیوری پرالزام عاید کیا کہ کمیٹی نے انتخابی مراحل کے روز اول ہی سے مقابلے میں شریک دو شیزائوں کےحوالے سے امتیازی سلوک اپنائے رکھا۔ سوالات اور لباس سمیت ہر معاملے میں کیرولینا تولیدو کو خصوصی اہمیت دی گئی اورہمیں نظرانداز کیا جاتا رہا۔

شکست خوردہ شیزلان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ بھی مقابلوں میں حصہ لے گی اور جیوری کی جانب سے امتیازی سلوک کیا گیا توہ بار بار کامیاب ہونے والی دوشیزائوں کے تاج ان سے چھینے گی۔

اس کا کہنا ہے کہ میں نے کیرولینا تولیدو سے اس کا تاج حسد کی بنیاد پر نہیں چھینا بلکہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر احتجاج کیا ہے۔ دوسری جانب حملے کا شکار ہونے والی ملکہ حسن کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس پر رنجیدہ ہے۔ اس نے کہا کہ میری حریف امیدوار نے میرا تاج سرسےاتار کرزمین پر پھینکا، حالانکہ میں اس تاج کو ہمیشہ اپنے سرپرسجائے رکھنے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ میں‌جانتی ہوں کہ میرے ساتھ جو بھی ہوا ہو حسد کا نتیجہ تھا کیونکہ میرے ساتھ حسد کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ تاہم اس نے اپنی حریف کو معاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کامیاب ہوتی تو میں تب بھی خوشی مناتی۔