.

پولیس اہلکاروں کا قتل، 180 اخوانیوں کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے 180 حامیوں کو پولیس اہلکاروں کے 'قتل' کی پاداش میں سزائے موت سنائی ہے۔ چونتیس افراد کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی۔

سزا پانے والے اخوانی کارکنوں پر سنہ دو ہزار تیرہ میں کرداسہ ٹاون میں 16 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ کرداسہ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد فوج نے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے اسلام پسند صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

صدر مرسی کی سیاسی موت کے بعد مصر نے اخوان المسلون کے خلاف جدید دور کا سب سے بڑا کریک ڈاون شروع کیا، جس میں اخوان کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر اجتماعی مقدمات چلا کر بھاری سزائیں سنائی گئیں۔ ان سزاوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے سیاسی مخالفین کو منظم طریقے سے دبانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے والے مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی اخوان المسلمون کو بڑا سیکیورٹی خطرا سمجھتے ہیں جبکہ اخوان کا کہنا ہے کہ وہ پرامن سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔