.

یواین جنرل اسمبلی کا شاہ عبداللہ کو خراجِ عقیدت

دنیا میں قیام امن اور بھوک کے خلاف جنگ میں کردار کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سوموار کو سعودی عرب کے مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی یاد میں اپنا خصوصی اجلاس منعقد کیا ہے اور دنیا بھر میں امن کے فروغ اور بھوک کے خلاف جنگ میں ان کے کردار کو سراہا ہے۔

اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل بین کی مون نے اپنی تقریر میں مرحوم شاہ عبداللہ کی اپنے ملک کی ترقی کے لیے خدمات اور بھوک کے خلاف عالمی جنگ میں ان کے کردار کی تعریف کی ہے۔انھوں نے کہا کہ انھیں مرحوم شاہ عبداللہ کی جانب سے آخری پیغام شرافت ہی کا ملا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان دونوں نے اپنی آخری گفتگو میں فلسطینی ،اسرائیلی تنازعے کے حل اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے شاہ عبداللہ کی جانب سے پیش کردہ عرب امن اقدام کی بحالی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں مراکش کے سفیر نے افریقی بلاک کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل اسمبلی میں تقریر کی۔انھوں نے شاہ عبداللہ کی جانب سے مہلک وائرس ای بولا سے لاحق ہونے والی بیماری پر قابو پانے کے لیے دی جانے والی فراخدلانہ امداد پرانھیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ایشیائی اور مغربی یورپی بلاک کے نمائندوں نے شاہ عبداللہ کے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کو آگے بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار کا شاندار الفاظ میں تذکرہ کیا۔اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی ایلچی نے سعودی عرب میں تعلیم کے فروغ کے لیے مرحوم شاہ کی خدمات کی تعریف کی اور ان کی جانب سے جاری کیے گئے غیرملکی وظیفہ پروگرام کا بطور خاص ذکر کیا۔

امریکی ایلچی نے شاہ عبداللہ کے بین المذاہب ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کے لیے ان کے قائدانہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی ورثہ ہے۔

عرب لیگ ،اسلامی تعاون تنظیم اور خلیج تعاون کونسل کے نمائندوں نے بھی مرحوم سعودی فرمانروا کی علاقائی اور عالمی سطح پر قیام امن اور غربت کے خاتمے کے لیے کوششوں کا تذکرہ کیا اور دنیا کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن اور خوش حالی کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہا۔

واضح رہے کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز 23 جنوری کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ان کے بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اقتدار سنبھالا ہے۔انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں مسلم اور عرب اقوام کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کی ضرورت پر زوردیا تھا۔