.

امریکا کی افغان فوج کے لیے امداد اب خفیہ نہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے افغان سکیورٹی فورسز کی امداد سے متعلق ایک یو ٹرن لے لیا ہے اور اب وہ عوام کے لیے اس امداد کی تفصیل ظاہر کرے گی۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے کمانڈر جان کیمپبل نے افغان سکیورٹی فورسز کے لیے امدادی پروگرام کی تفصیل کو کلاسیفائیڈ کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس ڈیٹا سے طالبان مزاحمت کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

لیکن انھیں اس اقدام پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور امریکی حکومت کی نگرانی کرنے والے ایک محکمہ ''خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیرنو'' نے گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے ٹیکس دہندگان کی رقوم سے افغان آرمی اور پولیس کی تربیت اور انھیں اسلحہ مہیا کرنے کے لیے دیے جانے والے 65 ارب ڈالرز کے پروگرام سے متعلق اہم معلومات کو چھپا لیا ہے۔

اب جنرل جان کیمپبل نے اس حوالے سے اپنے مؤقف میں نرمی کی ہے اور کابل میں ان کے ہیڈکوارٹرز نے زیادہ تر معلومات کو ڈی کلاسیفائیڈ کردیا ہے۔اس سے پہلے یہ معلومات ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔البتہ اس نے افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی جنگی تیاریوں سے متعلق تفصیل کو ظاہر نہیں کیا ہے۔

ایک امریکی اہلکار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ ''جنرل جان کیمپبل نے افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی تیاریوں سے متعلق اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اس کا ڈیٹا بدستور کلاسیفائیڈ ہی رہے گا۔انھوں نے کہا ہے کہ امریکا کا فوجی مشن انسپکٹر جنرل سے مکمل تعاون کرے گا۔

واضح رہے کہ پینٹاگان چھے سال تک افغان فورسز اور پولیس کی حالت سے متعلق ڈیٹا انسپکٹر جنرل کو مہیا کرتا رہا ہے اور ان معلومات سے افغان فورسز کی پراگریس اور مغربی ممالک کی امداد کے اثرات کے جائزے میں مدد ملتی رہی ہے۔