.

ریاض کے تعاون سے سیکڑوں جانیں محفوظ رہیں: کیمرون

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانیہ، سعودی تعاون کا معترف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سعودی عرب کے ساتھ موجود دیرینہ تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکڑوں برطانوی شہریوں کی زندگیاں بچائیں ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'سکائی نیوز' کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا: "سعودی عرب سے ہمارا ایک ایسا رشتہ موجود ہے. اس تعلق کا عمومی مقصد مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور بالخصوص دہشت گردی کا مقابلہ ہے۔ اپنی وزارت عظمیٰ کے دور کا ایک حوالہ دیکر اس تعلق کی اہمیت واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب کی فراہم کردہ معلومات کی بناء پر ہم نے برطانیہ میں سیکڑوں زندگیوں کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔"

ان کا مزید کہنا تھا "سعودی عرب اور برطانیہ کا تعلق دیرینہ ہے. اس تعلق کی جھلک دونوں مملکتوں کے شاہی خاندانوں کے درمیان رشتوں سے عیاں ہے. اسی طرح اس تعلق کی جھلک دونوں حکومتوں کے درمیان رشتوں میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔"

ڈیوڈ کیمرون نے سعودی شاہ عبداللہ کی وفات کے موقع پر سرکاری عمارتوں پر برطانوی جھنڈے کو سرنگوں کرنے کے فیصلے کے ناقدین کا جواب دیتے ہوئے کہا "ہمیں سعودیوں کے بہت سے اقدامات سے اختلاف ہے مگر جب ان کے بادشاہ کی وفات ہوئی تو ہم نے سوچا کہ ہمیں ان کے لئے احترام کا اظہار کرنا چاہئیے ہے۔"

کیمرون نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ موجود تجارتی تعلقات بالخصوص توانائی کے شعبے میں تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا "برطانیہ کو اپنے ہم عصر ان ملکوں سے خاص طور پر تعلق رکھنا پڑتا ہے جن سے تاج برطانیہ کے تجارتی تعلقات ہیں. ان میں خاص طور پر وہ ممالک شامل ہیں جن سے ہم تیل اور گیس خریدتے ہیں۔ یہ چیزیں برطانیہ میں پیدا نہیں ہوتیں۔"