.

ناروے کے شدت پسند مبلغ کو 'کالے پانی' کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اوسلو کی ایک مقامی عدالت نے عراق سے تعلق رکھنے والے شدت پسند مبلغ ملا کریکار کو ملک کے ایک دور افتادہ گائوں میں قائم پناہ گزین کیمپ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملا کریکار کو حال ہی میں ناروے کی ایک جیل سے دو سال 10 ماہ کی قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 58 سالہ نجم الدین فرج احمد المعروف ملا کریکا کو نارے میں "نفرت کے پرچارک" کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ عدالت نے جیل سے رہائی کے بعد سے ایک دور افتادہ گائوں میں منتقلی اور وہاں ایک سال تک نظر بندی کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ ملا نجم الدین فرج احمد نے سنہ 1991ء میں‌"انصار الاسلام" کے نام سے ایک شدت پسند تنظیم بھی تشکیل دی تھی۔ اسے ناروے میں انتہا پسند نظریات کی تبلیغ کے الزام میں‌ متعدد مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ حال ہی اس نے دو سال دس ماہ قید کاٹنے کے بعد جیل سے رہائی حاصل کی ہے۔

اس نے ناروے کی موجودہ وزیر اعظم ایرنا سولبرگ اور تین سرکردہ رنمائوں کے قتل کی بھی دھکی دی تھی۔ اس دھمکی کے بعد پولیس نے اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کے پیش نظر حراست میں لے لیا تھا۔

پولیس نے عدالت کے حکم پر ملاکریکار کو ایک دور افتادہ گائوں کے کیر کساٹیرورا پناہ گزین کیمپ میں منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ یہ قصبہ دارالحکومت اوسلو سے 500 کلومیٹر دور ہے۔

دوسری جانب ملا کریکار کے وکلاء دفاع کا کہنا ہے کہ عدالت کو اپنے فیصلے کے قانونی پہلوئوں‌کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے جس میں کہا گیا ہے کہ ملا کریکار گائوں سے باہر نہ نکلے اور ہفتے میں تین بار پولیس کو رپورٹ کرے گا۔ وکلاء دفاع کا کہنا ہے کہ ملا کریکار کو اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزارنے، آزدانہ طور پر ملک میں کہیں بھی سفر کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق سکونت اختیار کرنے کا حق ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ نجم الدین فرج احمد المعروف ملا کریکار نے پاکستان سے دینی تعلیم بھی حاصل کی و ہ صدام حسین کے دور میں بغاوت کے بعد ملک سے فرار ہو گیا تھا۔ صدام حکومت کی جانب سے اس کی عدم موجودگی میں‌اسے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ ناروے حکومت نے اسے سزائے موت کے ڈر سے بغداد کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔