.

الکربولی ڈرائیوروں کا قاتل اور ٹرک چور نکلا

دو دیگرشدت پسندوں کی سزائےموت پرعمل درآمد کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی"داعش" کی جانب سے یرغمال اردنی پائلٹ کے سفاکانہ قتل کے بعد اردنی حکومت نے القاعدہ کے متعدد زیرحراست شدت پسندوں کو تختہ دار پرلٹکانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ بدھ کو علی الصباح ساجدہ الریشاوی کے بعد زیاد خلف الکربولی بھی پھانسی دے دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدھ کو علی الصباح ناکام خودکش بمبار ساجد الریشاوی اور خلف الکربولی کی سزائے موت پرعمل درآمد کرتے ہوئے انہیں موت سے ہمکنار کردیا گیا۔

زیاد الکربولی : ڈرائیوروں کا قاتل اور ٹرک لوٹنے والا

الکربولی کا تعلق عراق کے شہر"القائم" اور صوبہ الدلیم کے معروف قبیلے الکرابلہ تھا جو قبیلے کے ایک اہم سردار کا بیٹا تھا۔ القاعدہ میں ‌شمولیت کے بعد ابو مصعب الزرقاوی کے دور میں الرطبہ کے علاقے میں تنظیم کا مالیاتی شعبے انچارج مقرر کیا گیا۔ العربیہ ڈاٹ ‌نیٹ نے اس کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں۔ زیادہ ترمعلومات اردنی ذرائع ابلاغ سے ہی ملی ہیں۔

الکربولی پرمتعدد نوعیت کے الزامات تھے۔ ان میں اردنی ٹرک ڈرائیور خالد الدسوقی کو اردن اور عراق کے سرحدی علاقے"الطریبیل" میں اغواء کے بعد قتل کا الزام بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ اس پرقتل اور اغواء برائے تاوان کے 12 دیگر مقدمات بھی قائم کیے گئے۔ اردن میں قیام کے دوران اس نے کئی گاڑیوں کو لوٹا اور ڈرائیوں کو اغوا کیا۔ اردنی پولیس نے اس کی گرفتاری کے لیے مسلسل کوششیں کی تا آنکہ سنہ 2006ء میں اسے حراست میں لینے میں‌کامیابی ملی۔ دو سال تک اس پر مقدمات چلتے رہے۔ سنہ 2008ء میں اس پرالقاعدہ سے تعلق اور دہشت گردی کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوئی۔

دہشت گردی کے الزامات کے تحت الکربولی پرقائم کیے گئے مقدمات کی سماعت کے دوران سات عراقی شدت پسندوں‌ کے علاوہ اس کے ایک بھائی ایاد الکربولی نبھان العسافی، یونس الزملاوی، ظافر علیوی اور محمود عمرہ اس کے ساتھ مقدمات کا سامنا کرتے رہے۔ عراق کے الکبیسی خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر شدت پسندوں کی شناخت محمد، قاید، یاسر، مجید، محمود ،مہند اور فائق کے ناموں سے کی گئی اور ان کی عدم موجودگی میں انہیں سزائیں‌ سنائی گئیں۔ ان پر اردن میں چار ڈرائیوروں کو اغواء کے بعد انہیں قتل کرنے، لوٹ مار کی 65 اور جلائو گھیرائو کی 11 وارداتوں کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکن عبدالکریم الشریدہ کے مطابق دو سال قبل خلف الکربولی نے مقتول اردنی ڈرائیور کے خاندان کو دیت ادا کرنے پر بھی آمادگی ظاہرکی تھی۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ‌ہوسکی کہ اس نے دیت ادا کی تھی یا نہیں؟

الکربولی اور الریشاوی کی آخری وصیت

اردن کی "عمون" خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ساجدہ الریشاوی اور الکربولی کو مقامی وقت کے مطابق بدھ کو صبح ساڑھے چار سے پانچ بجے کے درمیان پھانسی دی گئی۔ انہیں صبح چار بجے "سواقہ" جیل کے پھانسی گھاٹ پرلایا گیا۔ وہاں موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کےعلاوہ جوڈیشیل حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ایک جج نے الکربولی سے اس کی آخری وصیت پوچھی تو اس نے کہا کہ "میرے والدین کو میرا سلام کہنا۔ نیز میری وراثت میرے عزیزواقارب میں تقسیم کردینا"۔ آخری وصیت سننے کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔

اس کے بعد جج نے الرشاوی سے اس کی آخری وصیت پوچھی۔ وہ مسلسل خاموش رہی۔ اس نے کسی کے نام کوئی سلام کلام نہیں بھیجا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنی وراثت کا مال اقارب کو دینا چاہے گی تو اس نے "ہاں" میں جواب دیا۔ اس کے پون گھنٹے بعد اسے بھی لٹکا دیا گیا۔ عمون کے مطابق الریشاوی کو "الجویدہ" جیل سے سخت سیکیورٹی میں پھانسی گھاٹ پرلایا گیا۔

الجغبیر اور السحلی کو لٹکانے کی تیاری

اردنی شدت پسند اور القاعدہ کے سابق کمانڈر احمد الجغبیر اور ایک دوسرے عسکریت پسند کو بھی پانسی دینے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ دونوں کو کسی بھی وقت تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔ الجغبیر کو 2009ء میں اردن کی ایک عدالت سے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس پر سنہ 2002ء میں امریکی سفارت کار لورنس فولی کے اغواء کے بعد قتل سمیت دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

الجغبیر کو امریکی فوج نے عراق اور شام کی سرحد سے حراست میں لیا جسے بعد ازاں اردن کے حوالے کردیا گیا تھا۔ سنہ 2004ء میں اسے دو دیگر شدت پسندوں کے ہمراہ جیل میں ڈالا گیا۔ اس کے دونوں ساتھیوں سالم سعد بن صوید اور یاسر فتحی فریحات کو 2006ء میں ‌پھانسی ہو گئی تھی۔ اول الذکر کا تعلق لیبیا سے تھا۔

ایک دوسرے شدت پسند محمد حسن عبداللہ السحلی کو دی گئی سزائے موت پرعمل درآمد کی تیاری ہوچکی ہے ۔اسے بھی کسی وقت تختہ دار پرلٹکا دیا جائے گا۔ السحلی کو وادی عقبہ میں سنہ 2005ء میں بم دھمکاکوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اردنی فوجی احمد النجداوی کو قتل اور ایک دوسرے فوجی کو زخمی کرنے کا بھی الزام تھا۔