.

غزہ جنگ کی تحقیقات ، یو این کمیٹی کی نئی سربراہ کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے صدر نے امریکی خاتون جج میری میکگوون ڈیوس کو غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی نئی سربراہ مقرر کیا ہے۔

ان کے پیش رو پروفیسر ولیم شاباس اسرائیل کی جانب سے متعصب ہونے کے الزامات کے بعد سوموار کو دستبردار ہوگئے تھے۔اسرائیل نے مبینہ طور پر اقوام متحدہ کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جن سے یہ پتا چلا تھا کہ پروفیسر شاباس سنہ 2012ء میں فلسطینی اتھارٹی کے تن خواہ دار کنسلٹینٹ رہے تھے۔

تحقیقاتی کمیٹی کی نَئی سربراہ ڈیوس پہلے ہی اس کی رکن ہیں۔انھیں لبنانی نژاد برطانوی وکیل امل کلونی کے انکار کے بعد اس کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا تھا۔کمیٹی کے تیسرے رکن سینی گال سے تعلق رکھنے والے داؤدو ڈائین ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کہا ہے کہ وہ پروفیسر شاباس کے مستعفی ہونے کے باوجود غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقات جاری رکھے گی اور اس کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی کے مینڈیٹ کے مطابق 23 مارچ کو شائع کردی جائے گی۔

میری ڈیوس امریکی ریاست نیویارک کی سپریم کورٹ کی جج رہ چکی ہیں اور وہ ریاست کی وفاقی فوجداری پراسیکیوٹر کی حیثیت سے پچیس سالہ تجربے کی حامل ہیں۔انھیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کا بھی وسیع تجربہ ہے۔وہ امریکی سوسائٹی آف انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور بین الاقوامی لا اکیڈیمی کی رکن ہیں۔وہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جسٹسز کی بھی ایگزیکٹو ممبر ہیں۔

مس میری ڈیوس ماضی غزہ اور اسرائیل کے درمیان دسمبر 2008ء اور جنوری 2009ء میں تنازعے کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے والے آزاد ماہرین پر مشتمل یواین کمیٹی کی رکن اور چئیر وومن بھی رہ چکی ہیں۔

کمیٹی کے مستعفی ہونے والے سربراہ پروفیسر شاباس نے گذشتہ سال اپنے تقرر کے وقت کہا تھا کہ ان کی جانب سے ماضی میں اسرائیلی لیڈروں پر تنقید ان کی تحقیقات کی صلاحیت پر اثرانداز نہیں ہوگی لیکن انھیں اسرائیل مخالف خیال کیا جاتا رہا ہے۔انھوں نے سوموار کو جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل کے صدر جواشیم روئیکر کے نام خط میں لکھا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے متعصب ہونے کے الزامات کے بعد ذمے داریوں سے سبکدوش ہورہے ہیں۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان کےمستعفی ہونے کے بعد کہا ہے کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے کے بجائے شیلف میں رکھ دی جائے اور صہیونی ریاست کے بجائے حماس کے خلاف تحقیقات کی جائے۔

واضح رہے کہ جولائی اور اگست 2014ء میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران بائیس سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں یا ان کے حملوں میں چھے اسرائیلی شہری اور سڑسٹھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔اقوام متحدہ کی کمیٹی فریقین کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کررہی ہے۔کمیٹی اپنا کافی کام مکمل کرچکی ہے اور وہ اب اپنے نتائج وحاصلات کو مرتب کررہی ہے۔