.

ترکی: داعش کے پانچ مشتبہ ارکان زیرحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام نے ملک کے جنوب مشرقی شہر غازیان تیپ سے دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے ایک مشتبہ کارکن کو گرفتار کر لیا ہے۔اس کے بعد اس ہفتے کے دوران داعش سے وابستگی کے الزام میں زیرحراست افراد کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔

ترکی کے جنرل اسٹاف نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سکیورٹی فورسز نے غازیان تیپ سے بدھ کو داعش کے ایک رکن کو پکڑا تھا۔اس کے خلاف عدالتی عمل شروع کردیا گیا ہے''۔

قبل ازیں سوموار کو ترک سکیورٹی فورسز نے غازیان تیپ کے علاقے اوغوزعلی میں ٹریفک کنٹرول کے دوران داعش کے چار ارکان کو پکڑ لیا تھا۔فوری طور پر ان گرفتار افراد کی قومیت کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور شام کے درمیان نو سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔پولیس شام میں قریباً چار سال قبل خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے اس سرحد کو بمشکل کنٹرول کرسکی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی انتہا پسند جنگجوؤں کے جوابی حملوں کے خوف سے سرحد پر سختی کرنے میں متردد رہا ہے۔

ترکی نے شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کے لیے اپنی سرحدیں کھول رکھی ہیں اور اس وقت وہ قریباً بیس لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے لیکن اس نے داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں جنگ میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔

ترکی نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر بھی کوئی زیادہ سختی نہیں کی ہے جس کے پیش نظر شامی مہاجرین اور امدادی کارکنان کے روپ میں غیرملکی جنگجو بھی سرحد کے آر پار آتے جاتے رہے ہیں۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنگی حکمت عملی پر اختلافات اور بعض امور پر اپنی تشویش کی وجہ سے امریکا کی قیادت میں داعش مخالف جنگ میں شریک ہونے سے گریزاں رہے ہیں۔